نیشنل پریس کلب انتخابات کے نتائج میں تاخیر، الیکشن کمیٹی کی وضاحت جاری۔۔

نیشنل پریس کلب (این پی سی) اسلام آباد کی الیکشن کمیٹی نے 12 مارچ 2026 کو ہونے والے انتخابات کے نتائج کے اعلان میں تاخیر پر وضاحتی بیان جاری کر دیا ہے، جو اراکین اور مقابلہ کرنے والے گروپوں کی جانب سے تنقید کے بعد سامنے آیا۔ جاری اعلامیے میں الیکشن کمیٹی کے چیئرمین ناصر زیدی نے بتایا کہ تاخیر کی بنیادی وجہ بیلٹ پیپرز اور ووٹوں کی گنتی کے طریقہ کار میں مشترکہ طور پر کی گئی تبدیلی تھی، جس پر کمیٹی اور تمام امیدوار پینلز نے اتفاق کیا تھا۔بیان کے مطابق نئے طریقہ کار کے تحت ووٹوں کی گنتی خود الیکشن کمیٹی نے انجام دی، جبکہ ہر حریف گروپ کے دو، دو نمائندے بطور مبصر موجود رہے۔ اس سے قبل این پی سی انتخابات میں ہر گروپ کے تقریباً 20 نمائندے براہِ راست گنتی کے عمل میں شریک ہوتے تھے، جس کے باعث نتائج عموماً پانچ سے چھ گھنٹوں میں جاری ہو جاتے تھے۔الیکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ 12 مارچ کے انتخابات میں ووٹوں کی گنتی کا عمل غیر معمولی حد تک پیچیدہ تھا۔ مجموعی طور پر 2,180 ووٹ کاسٹ ہوئے جبکہ صدر اور سیکریٹری سمیت مختلف عہدوں کے لیے 26 امیدوار میدان میں تھے۔ ہر ووٹ کو ہر امیدوار کے لیے علیحدہ شمار کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 56,680 ووٹوں کی گنتی کی گئی۔بیان میں مزید کہا گیا کہ گنتی کے دوران مختلف گروپوں کے مبصرین کی جانب سے دوبارہ گنتی (ری کاؤنٹنگ) کی درخواستیں بھی کی گئیں، جس سے عمل مزید طویل ہو گیا اور نتائج کے اعلان میں تاخیر ہوئی۔الیکشن کمیٹی کے مطابق گورننگ باڈی کی نشستوں کے لیے ووٹوں کی گنتی 15 مارچ کو شیڈول کی گئی تھی، جس میں 39 امیدوار حصہ لے رہے ہیں، اور اندازہ ہے کہ مجموعی طور پر تقریباً 76,300 ووٹوں کی گنتی کی جائے گی۔ناصر زیدی نے اراکین سے اپیل کی کہ وہ صبر کا مظاہرہ کریں اور گنتی کا عمل مکمل ہونے کے بعد باضابطہ نتائج کے اعلان کا انتظار کریں۔واضح رہے کہ نیشنل پریس کلب کے انتخابات کو پاکستان کی صحافتی برادری میں خاص اہمیت حاصل ہے، کیونکہ یہ ادارہ وفاقی دارالحکومت میں صحافیوں کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے جہاں پریس کانفرنسز، میڈیا بریفنگز اور پیشہ ورانہ سرگرمیاں منعقد ہوتی ہیں۔ماہرین کے مطابق پریس کلبوں کے انتخابی عمل میں تاخیر نہ صرف شفافیت پر سوالات اٹھا سکتی ہے بلکہ صحافتی تنظیموں میں اعتماد کو بھی متاثر کر سکتی ہے، جس کے پیش نظر واضح طریقہ کار اور مؤثر ابلاغ نہایت ضروری ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں