sahafio ki hifazat ke hawale se tarbeyati workshop ka ineqad

نیشنل پریس کلب الیکشن، 3 پینلز آمنے سامنے۔۔

نیشنل پریس کلب کے انتخابات جو بارہ مارچ کو منعقدہونگے۔۔اس سے قبل تین پینلز میدان میں اترگئے اور سخت مقابلے کی فضا قائم ہوچکی ہے، کلب کے تین ہزار تین سو سے زائد  اراکین کی ووٹر لسٹ کو ڈیجیٹلائز کرنے کے مطالبات بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق موجودہ حکمران گروپ جرنلسٹ پینل، جس کی قیادت افضل بٹ کر رہے ہیں، ایک بار پھر اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے پُرامید ہے۔ تاہم ڈیموکریٹس پینل اور نو تشکیل شدہ بایومیٹرکس پینل کی سرگرمیوں نے انتخابی معرکے کو دلچسپ بنا دیا ہے۔ڈیموکریٹس پینل، جس کی قیادت سینئر صحافی نواز رضا اور طارق عثمانی کر رہے ہیں، جرنلسٹ پینل کی طویل عرصے سے قائم بالادستی کو چیلنج کرنے کے لیے میدان میں ہے۔ دوسری جانب بایومیٹرکس پینل، جس کی قیادت مطیع اللہ جان، اسد طور اور عبدالرزاق چشتی کر رہے ہیں، ایک نئی قوت کے طور پر ابھرا ہے۔ یہ پینل این پی سی کی رکنیت اور ووٹنگ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور مکمل ڈیجیٹلائزیشن کا داعی ہے۔گزشتہ انتخابات مارچ 2025 میں منعقد ہوئے تھے جن میں جرنلسٹ پینل نے ایگزیکٹو اور گورننگ باڈی کی تمام نشستیں جیت لی تھیں۔ اس موقع پر اظہر جتوئی دوبارہ صدر منتخب ہوئے جبکہ نئیر علی سیکرٹری منتخب ہوئے، یوں یہ پینل مسلسل بیسویں بار کامیاب قرار پایا۔آئندہ انتخابات میں نئیر علی صدر کے عہدے کے امیدوار ہیں جبکہ خالد محمود سیکرٹری کے لیے میدان میں ہیں۔ ڈیموکریٹس پینل کی جانب سے عبدالرزاق سیال کو صدر اور ڈاکٹر فرقان راؤ کو سیکرٹری نامزد کیا گیا ہے، جبکہ بایومیٹرکس پینل نے مطیع اللہ جان کو صدر اور اسد طور کو سیکرٹری کے لیے امیدوار بنایا ہے۔تینوں پینلز کے قائدین انتخابی مہم کے سلسلے میں صحافیوں کے دفاتر کے دورے کر رہے ہیں اور اراکین سے ملاقاتوں کے علاوہ افطار ڈنرز کا بھی اہتمام کیا جا رہا ہے تاکہ حمایت حاصل کی جا سکے۔ بایومیٹرکس پینل کا مؤقف ہے کہ موجودہ ووٹر لسٹ میں اعتراضات کے باعث بعض صحافی کلب کی سہولیات سے مکمل استفادہ نہیں کر پا رہے۔ پینل نے ایک شفاف اور ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے کا وعدہ کیا ہے جس کے تحت رکنیت کے اندراج اور ووٹنگ کے طریقہ کار کو جدید بنایا جائے گا۔ مبصرین کے مطابق 2026 کے این پی سی انتخابات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان میں پیشہ ورانہ تنظیموں میں شفافیت اور ٹیکنالوجی کا کردار بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ انتخابی معرکہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ نئی قیادتیں روایتی اور طویل المدتی گروپوں کو چیلنج کرنے کے لیے متحرک ہو رہی ہیں، جو آئندہ برسوں میں صحافتی اداروں کی حکمرانی کے انداز پر اثرانداز ہو سکتی ہیں۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں