صحافیوں اور دیگر میڈیا سے وابستہ افراد کے تحفظ کے لیے قائم سندھ کمیشن فار دی پروٹیکشن آف جرنلسٹس کا اجلاس پیرکے روز چیئرمین اعجاز احمد میمن کی زیر صدارت سندھ آرکائیوز میں منعقد ہوا۔اجلاس میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس سے مظہر عباس، سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کی نمائندگی میں ڈاکٹر توصیف احمد خان، پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن سے شکیل مسعود حسین، کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز سے مقصود یوسفی، سیکریٹری انفارمیشن کی نمائندگی کرتے ہوئے ڈائریکٹر اطلاعات محمد عمران الذنون،سیکریٹری ہیومن رائٹس کی نمائندہ جمیل احمد جونیجو ، سیکریٹری ہوم کے نمائندہ نوید آرائیں اور کمیشن کےسیکریٹری سعید میمن نے شرکت کی۔اجلاس میں حالیہ دنوں سندھ میں صحافیوں سے منسلک واقعات پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی، اور سندھ پولیس کی طرف سے پیش کردہ رپورٹس کا بغور جائزہ لیا گیا۔ان کیسز میں کراچی عبرت اخبار کے آفیس پر مشکوک گاڑی کی طرف سے کیے گئے حملے کی پولیس رپورٹ پر بریفنگ دی گئی۔کمیشن نےاس کیس کی پولیس رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ اکتوبر میں میرپورماتھیلو میں قتل ہونے والے صحافی طفیل رندکے بابت پولیس کی طرف سے جمع کرائی گئی رپورٹ تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، پولیس کے مطابق صحافی طفیل رند کا قتل کا بنیادی سبب ان کے رشتیداروں کے ساتھ کسی زمینی پلاٹ کا پرانہ تنازعہ اور اس پر پرانی ذاتی دشمنی ہے جس پر چار ملزمان گرفتار کیے جا چکے ہیں اور اس وقت کیس میرپورماتھیلو کی عدالت میں ہے۔کمیشن ممبران نے اس بات پر زور دیا کہ طفیل رند کے میڈیا ادارے سے بھی تفصیلی رپورٹ طلب کی جائے۔اس موقع پر چیئرمین اعجاز احمد میمن نے کمیشن کو آگاہ کیا کہ کمیشن کی طرف سے سندھ میں کام کرنے والے تمام میڈیا ہاؤسز کو ہدایت جاری کی گئی ہیں کہ قانونی طور پر میڈیا ادارےصحافیوں کی لازمی حفاظتی تربیت اور لائف انشورنس کے ذمہ دار ہیں۔اس کے علاوہ کمیشن کی طرف سے مختلف اداروں کی تعاون سے سندھ میں کام کرنے والے صحافیوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے تاکہ پالیسی سازی میں بہتری لائی جا سکے۔انہوں نے مزید بتایا کہ میڈیا مالکان کو صوبائی حکومت کی کم از کم اجرت پالیسی پر عملدرآمد کے لیے بھی پابند کیا گیا ہے ۔ کمیشن نے صحافیوں کی لائف انشورنس ،سیفٹی ٹریننگز اور کم از کم اجرت کے قوانین پر عملدرآمد کے حوالے سے اے پی این ایس کے عہدیداران سے ملاقات بھی کی ہے، اور بہت جلد سی پی این ای اور پی بی اے سمیت دیگر نمائندہ تنظیموں سے رابطہ کیا جائے گا ، انہوں نے کہا کہ ان قوانین پر عملدرآمد کے لیے ان تمام آرگنائیزیشنز کو آگے بڑھ کر کمیشن کا ساتھ دینا ہوگا۔
