میڈیا موقع پرستی نہیں صحافت کرے، صدر اے آر وائی نیوز۔۔

اے آر وائی نیوز ٹیلی ویژن کے صدر عماد یوسف نے پاکستان میں دوغلی صحافت پر شدید تنقید کی ہے اور میڈیا رپورٹنگ میں موقع پرستی اور منافقت کے بڑھتے ہوئے رجحانات کو بے نقاب کیا ہے۔ ان کے یہ ریمارکس  اکانومسٹ میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کے خلاف کالے جادو سے متعلق اسٹوری سے متعلق تھے۔جرنلزم پاکستان کی رپورٹ کے مطابق معروف اینکر عاصمہ شیرازی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی 2021 کی اسٹوری کہانی بڑے گھر کی درست ثابت ہوئی ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ اُس وقت کی خاتون اول وزیر اعظم کے فیصلوں کو متاثر کرنے کے لیے کالا جادو استعمال کرتی تھیں۔ تاہم، جب انہیں جیو نیوز پر سلیم صافی کے شو میں اس حوالے سے سوالات کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے کہا کہ یہ اسٹوری بشریٰ بی بی کے بارے میں نہیں تھی اور نہ ہی انہوں نے کسی کا نام لیا تھا۔عماد یوسف نے اس  طرزِ رپورٹنگ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کچھ سینئر صحافی مبہم بیانیے کا فائدہ اٹھا کر سرکاری شخصیات کو اسکینڈلائز کرتے ہیں مگر جواب دہی سے بچنے کے لیے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب اسی نوعیت کی خبریں بین الاقوامی سطح پر شائع ہوتی ہیں تو یہی صحافی کریڈٹ لینے کی کوشش کرتے ہیں، مگر چیلنج کیے جانے پر انکار کر دیتے ہیں۔ ان کے مطابق، ایسی روش صحافت پر عوام کے اعتماد کو مجروح کرتی ہے اور ایک ایسا ماحول پیدا کرتی ہے جہاں اشاروں کنایوں اور آدھے سچ کو تصدیق شدہ رپورٹنگ پر ترجیح دی جاتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ میڈیا کو حقائق اور ذمہ داری پر توجہ دینی چاہیے، نہ کہ ایسی موقع پرستانہ کوریج پر جو سچائی سے زیادہ سرخیوں کو ترجیح دیتی ہے۔عمادیوسف نے ایکس پوسٹ میں  اس رویے کو صحافت نہیں بلکہ موقع پرستی قرار دیا،  انہوں نے مزید کہا کہ ایسی حرکتیں میڈیا کی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہیں، عوامی اعتماد کم کرتی ہیں، اور اصل مسائل سے توجہ ہٹا دیتی ہیں۔ یوسف نے زور دیا کہ صحافیوں کا فرض ہے کہ وہ اخلاقی اصولوں پر کاربند رہیں، دیانت داری سے رپورٹنگ کریں، اور ذاتی مفاد یا عارضی شہرت پر جواب دہی کو ترجیح دیں۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں