تحریر: امجد عثمانی۔۔
مکرر عرض ہے کہ 2023 کے دسمبر کی ایک سہ پہر دی نیوز کے صوفی مزاج نیوز ایڈیٹر جناب عمران احمد شیخ جناب ارشد انصاری کا ہاتھ پکڑ کر لاہور پریس کلب نہ لاتے تو خاکم بدہن آج لاہور پریس کلب بھی”دیال سنگھ مینشن “کی طرح ایک ڈرائونا خواب بن گیا ہوتا ۔۔۔۔۔صد افسوس کہ مال روڈ پر یہ عمارت کبھی صحافی کارکنوں کے لیے امید کی کرن یوا تھی۔۔۔۔مزاحمت کا استعارہ ہوا کرتی تھی۔۔۔۔۔کچھ دیر پہلے پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے سابق نیک نام صدر جناب بخت گیر چودھری دیال سنگھ مینشن کا تذکرہ کرتے رنجیدہ ہو گئے ۔۔۔۔۔بہر حال صوفی مزاج لوگوں کا یہی مزاج ہوتا ہے کہ وہ بندے کا رخ طے کرکے اوجھل ہو جاتے ہیں۔۔۔۔عمران شیخ بھی جناب ارشد انصاری کو پریس کلب کی مسند پر بٹھا کر خود لحد میں اتر گئے۔۔۔سوچتا ہوں کہ اگر عمران شیخ ارشد انصاری کو “گھیر گھار” کر نہ لاتے تو اب تک پریس کلب کا کیا حال ہو گیا ہوتا۔۔۔۔۔مجھے کہنے میں کوئی ہچکچایٹ نہیں کہ کلب کے دروبام وحشت کی کہانی سنا رہے ہوتے کیونکہ تب بھی کلب کی عمارت کسی بھوت بنگلے کا منظر پیش کر رہی تھے اور میں تب بطور نائب صدر اس کا چشم دید گواہ ہوں۔۔۔ہم نے دیکھا کہ کیفے ٹیریا لنگرخانہ بن چکا تھا۔۔۔۔جم زنگ آلود ہو چکا تھا۔۔۔۔لائبریری کباڑخانہ خانہ بن چکی تھی۔۔۔۔ویب سائٹ ڈومین کھو چکی تھی۔۔۔۔اے سی تو کیا ائیر کولرز تک نہیں تھے۔۔۔گویا پریس کلب اندھیروں میں ڈوب چکا تھا۔۔۔۔۔پھر 2024میں روشنیاں بحال ہونے لگیں ۔۔۔۔سولر سسٹم لگ گیا۔۔۔۔کلب کی عمارت پر حسن آگیا۔۔۔۔کیفے ٹیریا پر برکتیں برسنے لگیں۔۔۔جم سپورٹس کمپلیکس میں بدل گیا۔۔۔۔سٹیٹ آف دی آرٹ ڈیجیٹل لائبریری بن گئی ۔۔۔ویب سائٹ چل پڑی۔۔۔صحن میں کولرز ۔۔۔اندر اے سی چل پڑے۔۔۔کلب میں ادبی ۔۔۔تفریحی اور طبی سرگرمیاں بحال ہو گئیں۔۔گویا کلب کو نئی زندگی مل گئی۔۔۔۔۔
2023 میں پنجاب حکومت کی نگران حکومت کا لاہور پریس کلب دشمن ہائوسنگ منصوبہ سامنے آیا۔۔۔۔نیوز روم دشمن۔۔۔۔پی ٹی وی ۔۔ریڈیو۔۔۔۔۔اے پی پی دشمن بھی ۔۔۔۔عامر میر ایسے بے دماغ وزیر اطلاعات کا منصوبہ جس نے نیک نام میڈیا مالک سمجھے جانے والے جناب محسن نقوی کو بھی بدنام کیا۔۔۔۔اس منصوبے میں پہلے نیوز روم کے لوگوں کو صحافیوں کی فہرست سے ہی نکال دیا۔۔۔۔پھر پریس کلب کی تحریک پر نیوز روم کو تسلیم کرلیا گیا لیکن پی ٹی وی ۔۔۔۔ریڈیو اور اے پی پی کی چھٹی کرادی گئی۔۔۔۔اسی طرح مسکن راوی نامی اس منصوبے میں لاہور پریس کلب کے 1400کے لگ بھگ کونسل ممبران کو پلاٹ کے حق سے محروم کردیا گیا۔۔۔۔یعنی مسکن راوی فیز ٹو تھا ہی نہیں ۔۔۔۔پنجاب جرنلسٹس ہاؤسنگ فائونڈیشن سے بالا عجب طرح کا بے ڈھنگ منصوبہ تھا جسے روڈا کا منصوبہ کہا گیا حالانکہ صحافیوں کے لیے رہائشی منصوبوں کا اختیار صرف اور صرف پی جے ایچ ایف کا ہے۔۔۔روڈا براہ راست یہ منصوبہ کیسے بنا سکتا تھا لیکن نا جانے کیوں یہ منصوبہ ٹھونس دیا گیا۔۔۔۔۔؟یہاں شرم ناک امر یہ ہے لاہور پریس کلب کے ایک گروپ نے کلب دشمن منصوبے پر بھنگڑے ڈالے۔۔۔مٹھائیاں تقسیم کیں۔۔۔۔پھر نگران حکومت کے ساتھ یہ عبوری منصوبہ بھی ساتھ ہی چلا گیا۔۔مریم نواز کی پنجاب حکومت نے نگران حکومت کےمنصوبے کو کالعدم قرار دیکر لاہور پریس کلب ہاؤسنگ سکیم فیز ٹو لانچ کیا اور پی جے ایچ ایف کے زیر انتظام لاہور پریس کلب کے 2000ممبرز کو پلاٹ دینے کا اعلان کیا۔۔۔2024کی منتخب گورننگ باڈی کا سلوگن بھی پلاٹ فار آل تھا اور آخر یہ خواب بھی شرمندہ تعبیر ہوا۔۔۔۔۔2025میں فیز ٹو آگے بڑھا۔۔۔ہنجاب حکومت نے بجٹ میں زمین خریداری کے لیے 40کروڑ مختص کیے۔۔۔پی جے ایچ ایف اور روڈا میں زمین خریداری کا معاہدہ ہوا۔۔۔اور کلب ممبران کو چالان فارم بھی مل گئے ۔۔۔۔اسی طرح 2024میں ایف بلاک میں سترہ سال سے لٹکی ڈیمارکیشن ہوئی تو 2025میں بجلی بھی چل پڑی۔۔۔۔گویا ایف بلاک میں بھی جمود ٹوٹا۔۔۔۔ایک دن بعد 2026 کا معرکہ بھی بپا ہونے والا ہے اور جناب ارشد انصاری پھر اپنی ٹیم کے ساتھ میدان میں ہیں ۔۔۔۔فیصلہ ایک بارپھر آپ کے ہاتھ میں ہے۔۔۔۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ لاہور پریس کلب آباد اور شاد رہے تو ارشد انصاری کو ووٹ کیجیے ۔۔۔۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ فیز ٹو میں لاہور پریس کلب کے 2000ممبرز کا چھت کا خواب شرمندہ تعبیر ہو تو ارشد انصاری کو ووٹ کیجیے ۔۔۔۔ویسے تو ارشد انصاری کے پورے پینل کو ووٹ کیجیے لیکن پینل میں ارشد انصاری کے ساتھ ساتھ جناب افضال طالب اور جناب سالک نواز کا خاص خیال رکھیے گا کہ یہ عہدے صدر کی اصل طاقت ہیں ۔۔۔۔۔اگر یہ طاقت کمزور پڑ گئی تو پریس کلب کے ساتھ ساتھ فیز ٹو کا مقدمہ بھی کمزور ہوگا۔۔۔۔۔فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔۔(امجد عثمانی)۔۔
