لاہور پریس کلب کے زیرِ اہتمام اور ہیمل فارماسیوٹیکلز کے تعاون سے بریسٹ کینسر آگاہی سیمینار نثار عثمانی آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔جس میں ماہرینِ صحت، صحافیوں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور طلبا نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔سیمینار کا مقصد عوام، خصوصاً خواتین میں بریسٹ کینسر کی بروقت تشخیص اور علاج سے متعلق شعور اجاگر کرنا تھا۔ تقریب میں معروف آنکولوجسٹ ڈائریکٹر انمول ہسپتال ڈاکٹر عامرہ شامی،کلینیکل آنکولوجسٹ ڈاکٹر فرخ رشید اور ماہرینِ صحت و دیگر اسپیشلسٹس نے اپنے خطابات میں کہا کہ پاکستان میں ہر سال ہزاروں خواتین بریسٹ کینسر میں مبتلا ہو جاتی ہیں، تاہم اگر بیماری کی بروقت تشخیص ہو جائے تو اس کا علاج ممکن ہے۔ڈاکٹر عامرہ شامی نے کہا کہ خواتین کو چاہیے کہ وہ ہر چھ ماہ بعد اپنی میڈیکل چیک اپ کروائیں، کیونکہ ابتدائی مرحلے میں پتہ چلنے والا کینسر مکمل طور پر قابلِ علاج ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بریسٹ کینسر صرف بیماری نہیں بلکہ ایک سوشل ایشو بھی ہے، کیونکہ شرم یا لاپرواہی کے باعث خواتین بروقت علاج نہیں کرواتیں۔ڈاکٹر فرخ رشید نے کہا کہ میڈیا، تعلیمی اداروں اور فارماسیوٹیکل انڈسٹری کو مشترکہ طور پر آگاہی مہمات میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ اس مرض سے متعلق غلط فہمیوں کا خاتمہ ہو۔ لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری اور سیکرٹری زاہد عابد نے بیان میںکہا کہ پریس کلب ہمیشہ سماجی مسائل کے حل اور عوامی آگاہی کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھاتا رہا ہے، اور آج کا سیمینار اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ،اور سمینار کو کامیاب بنانے پر لاہور پریس کلب کے کونسل ممبرو سینئرصحافی محمد عبداللہ کی کاوشوں کو سراہا ۔ شرکاءنے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ بریسٹ کینسر سے متعلق آگاہی کو اپنی برادری، گھروں اور دفاتر تک پھیلائیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین اس مرض سے محفوظ رہ سکیں۔سیمینار کے اختتام پر آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا۔ واک میں ڈاکٹرز، صحافی، سول سوسائٹی کے نمائندے، خواتین، طلبا اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ شرکاءنے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر “بروقت تشخیص زندگی بچاتی ہے” خاموشی نہیں آگاہی ضروری ہے اور “بریسٹ کینسر کا علاج ممکن ہے” جیسے نعرے درج تھے۔ اس موقع پرسابق نائب صدر لاہور پریس کلب امجد عثمانی نے ڈاکٹرز کو شیلڈز اور سرٹیفکیٹ دیئے۔
