اداکارہ صبا قمر کے خلاف متنازع بیانات پر صحافی نعیم حنیف نے عوامی طور پر معذرت کرلی ہے۔گزشتہ برس اداکارہ نے سنگین الزامات کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے 100 ملین (10 کروڑ) روپے کا قانونی نوٹس نعیم حنیف کو اس وقت بھیجا تھا جب صحافی نے دعویٰ کیا تھا کہ میں صبا قمر کو 2000 کی دہائی کے اوائل سے جانتا ہوں، وہ ایک ایسے گھر میں رہتی تھیں جو انہیں کسی مداح کی جانب سے فراہم کیا گیا تھا۔صحافی کے اس بیان کے بعد اداکارہ نے قانون کا سہارا لیا اور انہیں ہتک آمیز الزامات پر بھاری ہرجانے کا نوٹس بھیجا۔قانونی نوٹس کے مطابق نعیم حنیف نے صبا قمر کے بارے میں ایسے بیانات دیے اور پھیلائے جو نہ صرف تضحیک آمیز اور صنفی تعصب پر مبنی تھے بلکہ اس سوچ کو بھی فروغ دیتے تھے کہ ایک عورت کی کامیابی اس کی محنت یا پیشہ ورانہ صلاحیت کے بجائے مردوں سے وابستگی کا نتیجہ ہوتی ہے۔اس تنازع پر بات کرتے ہوئے نعیم حنیف نے ایک پوڈکاسٹ میں اعتراف کیا کہ ان کے دعوے غلط تھے۔ انہوں نے کہا کہ صبا قمر کے بارے میں کیے گئے بیانات حقیقت پر مبنی نہیں تھے اور وہ ان پر دل سے معذرت کرتے ہیں۔صبا قمر نے اس معذرت پر فوری ردِعمل دیتے ہوئے پوڈکاسٹ کا کلپ اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر شیئر کیا اور صرف ایک لفظ لکھا، اسپیچ لیس۔۔۔جو اس پورے معاملے پر ان کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔یہ معاملہ نومبر 2025 میں اس وقت شروع ہوا تھا جب نعیم حنیف نے اپنے یوٹیوب چینل پر یہ دعویٰ کیا کہ صبا قمر کبھی لاہور کے علاقے والٹن میں ایک ایسے گھر میں رہائش پذیر رہی تھیں جو مبینہ طور پر کسی نامعلوم شخص نے فراہم کیا تھا۔ ان بیانات کے سامنے آتے ہی سوشل میڈیا اور شوبز انڈسٹری میں شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا۔صبا قمر نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ کبھی والٹن میں نہیں رہیں اور ان کے خلاف دیے گئے بیانات بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہیں۔ انہوں نے اسے اپنی ساکھ پر حملہ اور کردار کشی قرار دیا۔تنازع کے دوران کئی شوبز شخصیات صبا قمر کے حق میں سامنے آئیں۔ ۔
