لاہور پریس کلب کی آرٹ کلچر اینڈ ٹیکنالوجی کمیٹی کے زیر اہتمام سینئر صحافی، ادیب اور شاعر، درجنوں کتب کے مصنف سعید آسی کے اعزاز میں لاہور پریس کلب کے نثار عثمانی ہال میں شام منعقد کی گئی۔ تقریب کی صدارت کلب کے صدر ارشد انصاری نے کی جب کہ سٹیج پر سینئر نائب صدر افضال طالب، ایکٹ کمیٹی کے چیئرمین امجد عثمانی کے علاوہ بریگیڈیئر (ر)محمد صادق راہی، حامد ریاض ڈوگر،فرخ سہیل گوئندی اور ناصر بشیر بھی موجود تھے۔ارشد انصاری نے خطبۂ صدارت میں کہا کہ سعید آسی نے لاہور پریس کلب کو متحد کرنے اور موجودہ جگہ پر شفٹ کرانے میں بڑا فعال کردار ادا کیا۔انہوں نے پچاس سالہ صحافت کے دوران حق اور سچ کا علم اٹھائے رکھا اور یہ سفر اسی طرح جاری ہے۔ سعید آسی پریس کلب میں الیکشن کروانے ہوں تب بھی فعال نظر آتے ہیں۔ ہم ان کی عظمت کو سلام پیش کرتے ہیں۔صدر ارشد نصاری اور امجد عثمانی ایکٹ کمیٹی کے ارکان نے سعید آسی کو پریس کلب کی جانب سے شیلڈ بھی پیش کی۔تقریب کا باقاعدہ آغاز عمران نومی نے تلاوت کلام پاک سے کیا جبکہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض سینئر صحافی سعید اختر نے انجام دیئے۔ صاحب شام نے بتایا کہ وہ آج سے ٹھیک پچاس برس قبل صحافت کے میدان میں اترے۔ اس وجہ سے اس تقریب کو میری صحافت کی گولڈن جوبلی قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان کے منہ سے بے اختیار نکلا ”یہ نصف صدی کا قصہ ہے، دو چار برس کی بات نہیں‘‘۔ انہوں نے بتایا کہ ضیا ءدور میں کس طرح لاہور پریس کلب کا احیاء ہوا اور اس کے پہلے الیکشن ہوئے اور وہ اس پریس کلب کے سیکرٹری منتخب ہوئے تھے۔ انہوں نےکلب کے دیال سنگھ مینشن اور مال روڈ پر نقی مارکیٹ میں آنے اور پھر شملہ پہاڑی منتقل ہونے کی دلچسپ داستان بھی سنائی۔وہ لاہور شہر سے گورنمنٹ کے بنائے ہوئے سلاٹر ہاؤس کو شاہ پور منتقل کرانے میں بھی محرک تھے اور انہی کی کوششوں سے شفٹنگ ممکن ہوئی۔ انہوں نے صحافتی کمیونٹی کو تجویز دی کہ اس وقت شعبۂ صحافت بالخصوص پرنٹ میڈیا شدید بحران کا شکار ہے اس لئے صحافیوں کے تمام گروپوں کو اپنی اپنی اناؤں کی قربانی دے کر ایک پلیٹ فارم پر باہم متحد ہو جانا چاہیے۔انہوں نے اپنی ایک اردو اور ایک پنجابی غزل بھی سنائی۔ آخر میں امجد عثمانی نے سب شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے بڑوں کے اعزاز میں ایسی محافل منعقد کرتے رہیں گے۔تقریب میں افضال طالب،طارق کامران،خالد اعجاز مفتی،علامہ صدیق اظہر،نواز طاہر،حامد ریاض ڈوگر، بریگیڈیئر(ر)محمد صادق راہی، علامہ صدیق اظہر، پروفیسر ناصر بشیر،پروفیسر محمد عالم،ساجد یزدانی،فرخ مرغوب، حامد نواز اور فرخ سہیل گوئندی نے صاحبِ شام کے بارے میں گفتگو کی جس سے ان کی شخصیت کے کئی پہلو کھل کر سامنے آئے۔تقریب میں ناصرہ عتیق، شاہدہ بٹ، مدیحہ خاں، زنیرہ طارق، تابندہ خالد، ڈاکٹر وقار گل، نصیر احمد،عمر شریف، نفیس قادری، سعید آسی کے بیٹوں شعیب سعید، شہباز سعید آسی اور ایکٹ کمیٹی کے ارکان محمد عبداللہ اور شہزاد فراموش نے بھی شرکت کی۔
