سندھ کے وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سعید غنی نے کہا ہے کہ ہم ٹریڈ یونینیسٹ کا مزدوروں کی سیاست کا انداز یہی رہا تو ہم نہیں چل سکتے اور آنے والے 10 سال کے بعد اور زیادہ نیچے چلیں جائیں گے۔ہمیں بدلتے وقت اور بدلتے حالات کے ساتھ حالات کے مطابق اپنے آپ کو تبدیل کرنا ہوگا۔ جو خرابیاں ہماری ٹریڈ کے اندر ہیں ہمیں اس کو بھی ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ یونیورلائزیشن آف سوشل سیکورٹی پر کام شروع کیا گیا ہے اور بینظیر مزدور کارڈ کا اجراء اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ہم صحافیوں کے ساتھ ساتھ ہر اس مزدور کو چاہیے وہ پرائیویٹ سیکٹرز میں ہو، چاہے وہ رکشہ اور ٹیکسی چلاتا ہو، کوئی پرائیویٹ ڈرائیور ہو یا کوئی ٹھیلہ لگاتا ہو، ہم سب کو سوشل سیکورٹی کے نیٹ میں شامل کرکے ان کے بچوں کو مفت اور اعلٰی تعلیم اور اس کی پوری فیملی بمعہ اس کے والدین کے مفت علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے آل پاکستان نیوز پیپرز ایمپلائز کنفیڈریشن(ایپنک) کے سالانہ انتخابات میں کامیاب ہونے والے عہدیداران کی تقریب حلف برداری میں بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے مظہر عباس، طاہر حسن خان، حبیب الدین جنیدی، لیاقت شاہی، امتیاز خان فاران، خورشید عباسی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ میں ایپنک کے نومنتخب چیئرمین اور عہدیداران کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں ہمارے دوستوں نے میڈیا سے وابستہ ملازمین اور ورکرز کے حوالے سے بات کی ہے کہ ان کو ہم کسی طرح اپنے سوشل سیکورٹی کے نیٹ میں شامل کریں۔ سعید غنی نے کہا کہ سوشل سیکورٹی یا ورکرز ویلفیئر بورڈ کے قانون میں یہ انڈسٹریل ورکرز تک محدود ہے اور جو سہولیات ہم ان ورکرز کو دیتے ہیں وہ انڈسٹریل ورکرز ہوتے ہیں اور ان کا کنٹریبیوشن ان کے مالکان ادا کرتے ہیں۔ پچھلی مرتبہ ہم نے ایک ٹرمولوجی شروع کی جو 2008 میں شروع ہوئی تھی جب پیپلز پارٹی وفاق میں حکومت میں تھی اور یہ محکمہ وفاق کے زیر انتطام تھے کہ ہم یونیورلائزیشن آف سوشل سیکورٹی شروع کریں گے کہ جو مزدور جو چاہے انڈسٹریل ورکرز ہوں، سیلف ایمپلائز ہو، انفارمل سیکٹر ورکر ہو یا کسی بھی طرح کی وہ مزدوری کرتا ہے تو اس کو ہم سوشل سیکورٹی کے نیٹ میں شامل کریں گے۔ سعید غنی نے کہا کہ اس وقت یہ نہیں ہوسکا اس کے بعد یہ محکمہ صوبوں کو منتقل ہوگئے لیکن بدقسمتی سے آج تک بھی محکمہ محنت کے دو اشیوز ای او بی آئی اور ورکر ویلفیئر فنڈ کا مسئلہ حل نہیں ہوا ہے اور یہ اس وقت بھی وفاق کے پاس ہے اور اس پر یہ معاملہ وفاق سے چل رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھی ہم نے جب گذشتہ دور میں یہ وزارت میرے پاس تھی تو سوشل سیکورٹی ایکٹ میں ترمیم کی تھی اور اس میں ہم نے اجازت دی کہ جو سیلف ایمپلائز لوگ ہیں یا کسی اور طرح کے ملازم ہیں وہ سوشل سیکورٹی میں رجسٹرڈ کریں گے اور ظاہر ہے اس کے لئے ہمیں ایک مکمل مکینزم بنانا ہے اور اس پر ہم نے کام شروع کیا اور جو ہم بینظیر مزدور کارڈ لے کر آئے تھے یہ صرف انڈسٹریل ورکرز تک محدود نہیں رہنا تھا شروع میں ہمارے پاس جو 6 لاکھ سے زائد انڈسٹریل رجسٹرڈ ورکرز ہیں ان کا یہ کارڈ بننا ہے اور اس کے بعد اس کے دوسرے اور تیسرے مرحلے کا آغاز ہونا ہے، جس میں صحافیوں، ہر وہ مزدور جو چاہے پرائیویٹ ملازمت کرتا ہو، رکشہ یا ٹیکسی چلاتا ہو یا کسی قسم کا ٹھیلہ ہی کیوں نہ لگاتا ہو ان سب کو اس نیٹ ورک میں شامل کرنا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ ہم اس بات کو بھی سب مانتے ہیں کہ پچھلے 15 سے 25 برسوں کے دوران تنزلی ہوئی ہے اور پورے معاشرے تمام شعبوں اور سیکٹرز میں تنزلی ہوئی ہے۔ چاہے وہ سیاسی جماعتیں ہوں، چاہے وہ عدالتیں ہوں، چاہے وہ میڈیا ہو الغرض ہر شعبہ تنزلی کا شکار ہوا ہے البتہ ایک فرق جو میں محسوس کرتا ہوں کہ یہ جو سیٹھ ہیں یا مالکان ہیں انہوں نے وقت کے ساتھ ساتھ اپنی پالیسیوں اور طریقہ واردات کو بھی تبدیل کیا ہے۔ ہم ٹریڈ یونینسٹ آج بھی 50 سے 70 سال پرانے طرز پر لیبر سیاست کررہے ہیں اور معذرت کے ساتھ اگر ہمارا انداز یہی رہا تو ہم نہیں چل سکتے اور آنے والے 10 سال کے بعد اور زیادہ نیچے چلیں جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بدلتے وقت اور بدلتے حالات کے ساتھ حالات کے مطابق اپنے آپ کو تبدیل کرنا ہوگا۔ باقی جو آپ نے کم سے کم اجرت کے حوالے سے کہا کہ انسپکٹر کو بھیج دیں تو یہ سلیوشن نہیں ہے کہ میں انسپیکٹر کو کہہ دوں اپ کے ہاں وزٹ کریں ہو سکتا ہے کہ پیسے لے کے چلا جائے یہ ممکن ہے زیادہ امکانات اسی بات کے ہیں۔ یہ ٹھیک اسی وقت ہوگا جب آپ پراپر ان چیزوں کو فالو کریں گے اور یہ جو کم سے کم اجرت کی آپ بات کرتے ہیں لیکن ہمارے پاس ڈیپارٹمنٹ میں ریسورسز ہی نہیں ہمارے پاس لوگ ہی نہیں ہیں اتنے کہ ہر جگہ جا کر چیک کرا سکیں۔ میں نے اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہوکر بھی یہ کہا کہ میں مانتا ہوں کہ اس پر مکمل عملدرآمد نہیں ہورہا ہے۔ لیکن میں یہ آپ کو بتا دوں کہ اگر کہیں سے شکایت آئی ہے کہ فلاں فیکٹری والا کم سے کم اجرت نہیں دے رہا تو میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں اس بات کو کہ ہم نے وہاں پر عملدرآمد کرایا ہے اگر پتہ چلا کہ کہیں تو نہیں دے رہا۔ آپ ہمیں مطلع کرتے جائیں مجھے پتہ ہی نہیں آپ بتاتے جائیں گے فلاں اس پر عملدرآمد نہیں کررہا اور اگر اس پر میں ایکشن نہ لوں تو پھر میں ذمہ داری اور میری نااہلی ہے۔ کہ اگر مجھے پتہ نہیں چلا کہ جنگ، جیو یا اور کوئی اور چینل کو یا ادارہ نہیں دے رہا اور وہاں پر یہ زیادتی ہو رہی ہے اور عملدرآمد نہیں ہو رہا میرے علم میں آنے کے باوجود بھی تو پھر غلط ہے اور دوسری بات ہے غلط چیز لوگوں کے ذہنوں میں ہے کہ کم سے کم اجرت اگر 40 ہزار ہے تو وہ ان اسکیل ورکر کی ہے۔ اسکیل ورکر کی 40 نہیں ہے اس سے اوپر ہے مختلف کیٹگریز ہیں اور ہر کیٹگری کے حساب سے اس کی الگ ہے تو آپ 40 ہزار نہ مانگیں اگر آپ کا ورکر اسکیل ہے تو اس کی کم سے کم اجرت زیادہ ہے وہ مانگیں۔ تو اس میں میری طرف سے ہر طرح کا تعاون صرف صحافی تنظیموں کو نہیں اس صوبے کی تمام جو ٹریڈ یونینز کے لیے ہے، میرے دروازے سب کے لئے کھلیں ہوئے ہیں۔ لیکن میں پھر کہتا ہوں چونکہ میرے لئے یہ کہنا آسان ہوتا ہے باقی وزیر کے لئے نہیں کہہ سکتا کہ جو خرابیاں ہماری ٹریڈ کے اندر ہیں ہمیں اس کو بھی ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔
صحافتی تنظیموں، ٹریڈیونینز کیلئے میرے دروازے ہروقت کھلے ہیں، سعید غنی۔۔
Facebook Comments
