صبح سے صحافیوں کو ٹارگٹ کئے جانے کی افواہیں گرم تھیں۔۔

صحافی نے انکشاف کیا ہے کہ صبح سے یہ افواہیں گرم تھیں کہ آج کچھ صحافیوں کو ٹارگٹ کیا جائے گا، اس حوالے سے تحریک انصاف کے واٹس ایپ گروپوں میں بھی صحافیوں کی تصاویر بھیجی گئیں تھیں۔جیو نیوز کے پروگرام میں صحافی شبیر ڈار نے بتا یا کہ علیمہ خان توشہ خان ٹو کیس کی سماعت کے بعد جب اڈیالہ جیل سے باہرآئیں تووہ سیدھامیڈیا کے کیمروں کے پاس آ گئیں۔ اس دوران وہاں پر موجو د صحافی نے علیمہ خان سے سوال کیاکہ سوشل میڈیا پر ہماری فیملیز کو ٹارگٹ کیاجارہا ہےاور ہمیں بھی ٹرولنگ کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو کیا آپ اس طرز عمل کی مذمت کرتی ہیں?اس سوال پر علیمہ خان خاموش رہیں جبکہ ان کےساتھ موجود تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنان نے سوال کرنے والے صحافی کوپہلے گالیاں دیں اور پھر تشدد کا نشانہ بنانا شروع کردیا۔یہ معاملہ گزشتہ ہفتے اس وقت شروع ہوا جب صحافیوں کے سوالات پر تحریک انصاف کے کارکنان مشتعل ہو گئے، پھر جب علیمہ خان پر انڈہ پھینکا گیا اس دن بھی صحافیوں کے سوالات سے تحریک انصاف کے کارکن مطمئن نہیں تھے، صحافی بار بار یہ ہی سوال کرتے تھے کہ علیمہ خان سے ہم نے کونسی بدتمیزی کی ہے جو ہماری ٹرولنگ کی جا رہی ہے اور علیمہ خان ان باتوں کا کوئی جواب نہیں دیتی تھیں۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں