معروف اداکار سلیم معراج نے انکشاف کیا ہے کہ شوبز انڈسٹری میں کام کے بدلے جنسی تعلق یعنی ’کاسٹنگ کاؤچ‘ کا رجحان کافی حد تک موجود ہے لیکن اس سوال کا جواب کوئی نہیں دے سکتا کہ مذکورہ رجحان کیوں ہے؟سلیم معراج نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے مختلف معاملات پر کھل کر بات کی۔پوڈکاسٹ میں بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ شوبز انڈسٹری میں لابی سسٹم بھی موجود ہے لیکن لابی سسٹم کی باتیں وہ شخص ہی کرتا ہے جس کو کام نہیں مل رہا ہوتا لیکن جب تک اسے کام مل رہا ہوتا ہے، تب تک اسے اس بات کا کوئی احساس نہیں ہوتا۔سلیم معراج نے مثال دی کہ جیسے وہ زیادہ تر فلم ساز نبیل قریشی کی فلموں میں آتے ہیں اور بہت سارے لوگ ایک ہی ہدایت کار کی فلموں میں کام کرنے کی وجہ سے ان پر بھی لابی سسٹم کا حصہ ہونے کا الزام عائد کرتے ہوں گے۔شوبز انڈسٹری میں کاسٹنگ کاؤچ کے سوال پر سلیم معراج نے انکشاف کیا کہ انڈسٹری میں کام کے بدلے جنسی تعلقات کا رجحان موجود ہے اور یہ کافی حد تک ہے۔انہوں نے کہا کہ شوبز انڈسٹری کے لوگ اپنے اختیارات اور خصلتوں کا غلط استعمال کرتے ہیں جب کہ لڑکیوں اور لڑکوں کو کاسٹنگ کاؤچ کا نشانہ وہی لوگ بناتے ہیں جن کے پاس خود کوئی کام نہیں ہوتا، وہ اپنا کام نکلوانے کے چکر میں ایسا کرتے ہیں۔ان کے مطابق کام کے بدلے جنسی تعلقات کی پیش کش وہی لوگ کرتے ہیں جو فلم اور ڈراما میکرز کے اسسٹنٹ یا قریبی افراد ہوتے ہیں، عام طور پر ان کے پاس خود کوئی کام نہیں ہوتا اور اپنے کام نکلوانے کے لیے ایسی پیش کش کرتے ہیں۔سلیم معراج نے اس بات پر بھی حیرانگی کا اظہار کیا کہ نئی نسل کے لڑکے اور لڑکیاں ویسے بہت سمجھدار ہوتے ہیں، عقلمند اور تعلیم یافتہ ہوتے ہیں لیکن جب کاسٹنگ کاؤچ کا معاملہ ہوتا ہے تو وہ خاموش رہتے ہیں، ان کا دماغ کام نہیں کرتا، وہ چیزوں اور باتوں کو سمجھ نہیں پاتے۔
