سینئر صحافی سے ایک بار پھر پولیس گردی۔۔۔

سینئر صحافی ظفر نقوی ایک بار پھر پولیس گردی کا شکار ہوئے ہیں۔۔سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس پر سینئر صحافی ظفر نقوی نے پولیس گردی کے حوالے سے کچھ اس طرح سے تحریر کیا ہے کہ ۔۔‏پشاور روڈ بلمقابل کائنات اڈہ راولپنڈی جوائنٹ چیک پوسٹ پر ہماری گاڑی کا سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پر چالان ہوا، بیٹا چلا رہا تھا، گاڑی کا کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس سب موجود تھا، کہتے ہیں 10 ہزار چالان ہو گا میں نے پوچھا وہ لسٹ دکھا دیں کیونکہ صرف سیٹ بیلٹ کا اتنا بڑا چالان کیسے اور ساتھ ہی میں نے ویڈیو بنانا شروع کی، جیسے ہی میں نے کیمرہ کھولا اور پوچھا کہ چالان کتنا ہے تو ساتھ والی چوکی سے کامران نامی سول کپڑوں میں آ کے بندے نے میرا موبائل کھینچ لیا، مجھے دھکے دیئے، اوپر کیمرے لگے ہیں سب دکھ رہا ہو گا،  میں نے صرف 10 ہزار پر سوال کیا، مجھے اور میرے بیٹے کو چوکی پر لے گئے، وہاں آدھا گھنٹہ حبس بے جا میں رکھا ان کا اصرار تھا کہ موبائل تب دیں گے جب ویڈیو ڈیلیٹ کرو گے، مجھے دھکے دیئے بیٹے کو اسی ٹینٹ میں بٹھایا آخر میں موبائل کھول کے ویڈیو ڈیلیٹ کی اور مجھے کہا کہ چالان 10 ہزار نہیں 5 ہزار ہے اسی لئے مجھ سے ویڈیو ڈیلیٹ کروائی کیوں کہ اس ویڈیو میں یہ خود کہہ رہے تھے 10 ہزار ہے، کیا وزیراعلی پنجاب نے پنجاب پولیس کو بدمعاش بنا دیا ہے، پولیس نے ایسا کیوں کیا ہے، میں ان کیخلاف کورٹ جاؤں گا، یہ بدمعاشی کیوں کی ہے، میں وزیراعلی پنجاب مریم نواز صاحبہ اور آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور صاحب سے اس بدمعاشی اور پولیس گردی کیخلاف سخت ایکشن لینے کا مطالبہ کرتا ہوں، ان بدمعاشوں کو بینقاب ضرور کروں گا، مجھے کہتے ہیں آپ نے پہلے بتایا ہوتا کہ آپ صحافی ہیں کیونکہ ایک بندہ مجھے پہچان گیا، میں نے کہا میں پاکستانی شہری ہوں میرا یہی تعارف ہے، صحافی کا تعارف کرانا ضروری نہیں، میں نے فقط لسٹ مانگی کیونکہ آپ 10 ہزار مانگ رہے تھے مجھ سے جب تک اپنی کرتوتوں کی ویڈیو ڈیلیٹ نہیں کروائی تب تک ہمیں نہیں چھوڑا، میں ایک بار موبائل چھوڑ کے واپس آنے لگا تو مجھے روک لیا کہ آپ تب تک نہیں جا سکتے جب تک ویڈیو ڈیلیٹ نہیں کرو گے، ان پولیس والوں پر حبس بے جا کا جب تک پرچہ نہیں ہو گا، میں تب تک چین سے نہیں بیٹھوں گا، لوگ شاید یہ سمجھیں کہ ہر وقت میں بولتا ہوں، باقی لوگ خاموش رہتے ہیں، میں آپ سب سے ملتمس ہوں آپ اس ظلم اور پولیس گردی پر خاموش نہ رہا کریں، اس بیشرمی کو انجام تک پہنچایا کریں

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں