سیلاب کی کوریج کیوں کی ؟ مقامی بیوروکریسی کے کہنے پر صحافی آف ایئر ۔۔

رحیم یار خان میں جنوبی پنجاب یونین آف جرنلسٹس (رجسٹرڈ) نے مظفرگڑھ کے رپورٹر فاروق شیخ کے حق میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرہ ڈسٹرکٹ پریس کلب کے باہر کیا گیا جس میں صحافیوں، سماجی تنظیموں کے نمائندوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔احتجاج کی قیادت جنوبی پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے مرکزی صدر نذر عباس نے کی، جبکہ ضلعی صدر غلام حسن مہر، ضلعی سینئر نائب صدر چوہدری محمد حفیظ، مرکزی فنانس سیکرٹری محمد عامر بھٹی، مرکزی انفارمیشن سیکرٹری غلام عباس خان، ضلعی انفارمیشن سیکرٹری ملک محمد آصف اور دیگر صحافی شریک ہوئے۔اس موقع پر مقررین نے کہا کہ 92 نیوز کے رپورٹر فاروق شیخ کو سیلاب متاثرین کی اصل صورتحال اجاگر کرنے پر آف ایئر کیا گیا، جو آزادی صحافت پر حملہ ہے۔ نذر عباس نے کہا کہ یہ اقدام پوری صحافتی برادری کی آواز کو دبانے کی کوشش ہے، اگر فاروق شیخ کو بحال نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ جنوبی پنجاب بھر تک پھیلایا جائے گا۔غلام حسن مہر نے کہا کہ ڈی سی مظفرگڑھ کی ایما پر کیا گیا یہ فیصلہ غیر پیشہ ورانہ اور آئین میں دی گئی آزادی اظہار کے منافی ہے۔ حیدر چغتائی (آرگنائزر، پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپین) کا کہنا تھا کہ یہ صرف صحافت پر نہیں بلکہ عوام کے حقِ معلومات پر حملہ ہے۔سابق جنرل سیکرٹری پریس کلب رحیم یار خان ثاقب سندھو نے کہا کہ سچ بولنے والے صحافیوں کو نوکری سے نکالنا یا آف ایئر کرنا ناقابلِ قبول ہے۔مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ فاروق شیخ کو فوری طور پر آن ایئر بحال کیا جائے، ڈی سی مظفر گڑھ کے اختیارات کے ناجائز استعمال کا نوٹس لیا جائے اور زمینی حقائق سامنے لانے والے صحافیوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔احتجاج کے اختتام پر اعلان کیا گیا کہ اگر مطالبات نہ مانے گئے تو جنوبی پنجاب سمیت لاہور، اسلام آباد اور دیگر شہروں میں دھرنے دیے جائیں گے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں