اسلام آباد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز کورٹ نے متنازع آن لائن ویڈیوز اور سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق کیس میں صحافی سہراب برکت کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کر لی ہے۔عدالتی کارروائی کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ نے جمعہ کے روز ضمانت کی درخواست پر سماعت کی اور ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض سہراب برکت کی رہائی کا حکم جاری کیا۔ عدالت نے یہ ریلیف اس شرط پر دیا کہ کیس کی قانونی کارروائی بدستور جاری رہے گی۔سہراب برکت کے خلاف مقدمہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے درج کیا گیا تھا، جس میں ان پر سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر ریاست مخالف مواد اپ لوڈ کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق الزامات کا تعلق ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی ویڈیوز اور پوسٹس سے ہے۔سہراب برکت نیوز ویب سائٹ سیاست ڈاٹ پی کے سے وابستہ ہیں اور سوشل میڈیا پر بھی سرگرم ہیں، جہاں ان کے مواد کو ماضی میں بھی حکام کی جانب سے جانچ پڑتال کا سامنا رہا ہے۔عدالتی دستاویزات کے مطابق سہراب برکت کو 26 نومبر کو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ ایک اقوام متحدہ کی کانفرنس میں شرکت کے لیے سفر کر رہے تھے۔گرفتاری کے بعد این سی سی آئی اے نے مزید تفتیش کے لیے 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی تھی، تاہم عدالت نے مکمل مدت منظور کرنے کے بجائے صرف چار روزہ جسمانی ریمانڈ کی اجازت دی تھی۔عدالت کی جانب سے بعد از گرفتاری ضمانت کی منظوری کا مطلب یہ نہیں کہ کیس ختم ہو گیا ہے، بلکہ قانونی ماہرین کے مطابق اس طرح کے احکامات کے تحت ملزم تفتیش اور عدالتی کارروائی کے دوران آزاد رہ سکتا ہے، جبکہ اس سے قصوروار یا بے قصور ہونے کا تعین نہیں ہوتا۔
