سنو نیوزکے کنٹرولر نیوز نے بدھ کے روز اچانک استعفا دے کر چینل انتظامیہ کو حیران کردیا۔۔ پپو نے بتایا ہے کہ لاہور کی میڈیا انڈسٹری میں کچھ لوگ یہ افواہیں پھیلا رہے ہیں کہ نئے ڈائریکٹر نیوزکی آمد پر کنٹرولر نیوز دلبرداشتہ ہوگیا کیوں کہ اسے یقین تھا کہ اگلا ڈی این وہ ہوگا ، اس سے قبل سنو کے ڈائریکٹر نیوز شہبازمیاں کے استعفے کے بعد چینل انتظامیہ نے اسے روک لیا تھا جس کے بعد سے نئے ڈی این کی آمد تک کنٹرولر نیوز ہی نیوزروم اور اسکرین کے معاملات سنبھالے ہوئے تھا۔۔ پپو نے انکشاف کیا ہے کہ یہ قیاس آرائیاں اور افواہیں قطعی بے بنیاد ہیں نئے ڈائریکٹر نیوز اور کنٹرولر نیوز میں قطعی کوئی ایسا معاملہ نہیں، کنٹرولر نیوز نے میڈیا انڈسٹری میں اپنا کیرئر ہولڈ آن کردیا ہے اور وہ کسی اور چینل کو جوائن نہیں کررہے بلکہ اب میڈیا سے باہر کچھ اور کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ پپو کے مطابق کنٹرولر نیوز اب میڈیا کی جاب سے وقفہ لے رہے ہیں اور اپنی توجہ کسی اور سمت رکھیں گے کیوں کہ انہیں بھی اندازہ ہوگیا ہے کہ میڈیا انڈسٹری کا مستقبل اب تابناک نہیں رہا۔۔پپو نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ نئےڈائریکٹر نیوز کے خلاف چینل میں ایک اعلیٰ عہدیدار کی سربراہی میں ایک لابی سرگرم ہوچکی ہے جو چاہتی ہے کہ کسی طرح یہ ناکام ہوجائے، پپو نے یہ انکشاف بھی کیا کہ بدھ کے روز ہیڈآفس میں ہونے والی پریزینٹیشن کے بعد نئے ڈی این نے اپنی جڑیں مزید مضبوط کرلی ہیں جس کے بعد کنٹرولر کااستعفا سامنے آیا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ نئے ڈی این سے پرانے لوگ خوش نہیں ہیں۔۔پپو نے یہ بھی بتایا ہے کہ چینل کے اعلیٰ ترین عہدیدار کا کمرہ اس وقت پاکستان میں بٹ کوائن کی سپلائی کا ذریعہ بناہوا ہے اور سارا دن وہاں بٹ کوائن کے حوالے سے میٹنگ میٹنگ چل رہی ہوتی ہے۔۔ پپو نے یہ انکشاف بھی کیا ہے جہاں ایک جانب نئے ڈی این کے مخالف لابی سرگرم ہے وہیں ڈی این کی حمایت میں ایک لابی بن چکی ہے، جس کا خود نئے ڈی این کو بھی علم نہیں لیکن یہ لابی نئے ڈی این کی راہ میں آنے والی غائبانہ رکاوٹوں کو دور کرنے میں مصروف ہے۔۔ پپو کا کہنا ہے کہ نئے ڈی این کے چینل میں قدم رکھتے ہیں اس کی مخالف لابی نے کچھ اس طرح کی حرکتیں شروع کردی تھیں کہ پرائم ٹائم کے نو بجے کے بلیٹن میں نیوزڈیسک کے لوگ کھانا کھانے چلے جاتے تھے۔ کام کی رفتار سلو رکھی جاتی تھی۔۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ ڈی این کے حامی اور مخالف گروپوں کے درمیان جاری ٹسل اب کیا رنگ دکھاتی ہے۔۔ لیکن یہ بات کنفرم ہے کہ چینل مالکان کے علم میں شاید یہ بات نہ ہو کہ ان کے چینل میں بیٹھ کر بٹ کوائن کا کاروبار کیا جارہا ہے۔۔ جس میں چینل کے اعلیٰ ترین عہدیدار مبینہ طور پر ملوث بتائے جاتے ہیں۔۔
