پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (ورکرز) کی صدر ڈاکٹر سعدیہ کمال، سیکریٹری جنرل انیس حیدر، سینئر نائب صدر ناصر شیخ، ایڈیشنل سیکریٹری جنرل عمر فاروق گوندل، سینئر نائب صدر نیئر سرحدی، خازن جاوید ملک، سیکریٹری اطلاعات عمران چوہدری، جوائنٹ سیکریٹری ایوب برمی ، اسلام آباد / راولپنڈی یونین آف جرنلسٹس (ورکرز) کے جنرل سیکریٹری حمید اللہ عابد نے دادو اور سیہون کے بول نیوز کے نمائندے یاسر شورو، جی این این کے شاہد تھہیم اور دیگر صحافیوں کیخلاف ایس ایس پی دادو کی ایماء پر انسداد دہشت گردی کے مقدمات درج کئے جانے کی مذمت کرتے ہوئے وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن، وزیراعلیٰ سندھ ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی حیدرآباد او ردیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ایس ایس پی دادو کو فوری طورپر برطرف کیا جائے اور اس واقعے کی شفاف انکوائری کرائی جائے۔ انہوں نے کہاکہ بول نیوز کے نمائندے یاسر شورو اور دیگر نے ایس ایس پی سے عدالت کے احاطے میں جعلی پولیس مقابلوں سے متعلق سوال کیا تھا جس پر انہوں نے مشتعل ہوکر مذکورہ نمائندوں کیخلاف انسداد دہشت گردی کے جھوٹے مقدمات درج کروادیئے جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب سندھ پولیس اسٹیٹ بن چکا ہے اور پولیس بے لگام ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ صحافی جوکہ منتخب نمائندوں سمیت دیگر سے سوالات کرتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کیخلاف مقدمات درج کروائے جائیں۔ اس سے قبل بھی سندھ کے مختلف مقامات پر پولیس کئی صحافیوں کو جھوٹے مقدمات میں ملوث کرچکی ہے ، لہٰذا اگر سندھ پولیس نے اپنی روش تبدیل نہ کی تو پھر پولیس کیخلاف ملک گیر احتجاج کیا جائیگا جس کی تمام تر ذمہ داری آئی جی سندھ پر ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ صحافی اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داری ادا کرتے ہیں تو انہیں ہراساں کیا جاتا ہے ، پہلے ہی پاکستان میں صحافی غیر محفوظ ہیں، آئے دن صحافیوں پر قاتلانہ حملے ، جھوٹے مقدمات ، ملازمتوں سے برطرفی معمول بن چکی ہیں۔
