پی ایف یوجے کی ملک گیر احتجاج کی کال پر پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام لاہور پریس کلب میں احتجاج کیا گیا ۔ سندھ میں گزشتہ دو ہفتوں میں قتل ہونے والے صحافیوں امتیاز میر اور طفیل رند کے قتل کے خلاف صحافیوں نے نعرے بازی کی ۔ مظاہرین نے وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ ، آئی جی سندھ سے قاتلوں کی گرفتاری اور مقتول صحافیوں کی فیملیز کو تحفظ دینے کا مطالبہ کیا۔ لاہور پریس کلب میں منعقدہ احتجاجی مظاہرے سے پی یوجے کے نائب صدر ندیم زعیم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں آئے روز صحافیوں کا قتل عام کیا جاتا ہے کبھی کچے کے ڈاکو صحافی جان محمد مہر کی زندگی سے کھیلتے ہیں اور کبھی کسی دوسرے صحافی کو گولیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ سندھ حکومت صحافیوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہو چکی ۔انہوں نے کہا جرنلسٹ پروٹیکشن بل کے تحت صحافیوں کے جان و مال کے تحفظ کے لئے کمیشن تو بن چکا ہے مگر اس کمیشن نے آج تک کسی صحافی کے تحفظ کے لئے اقدام نہیں کیا اور نہ ہی ملزمان کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی۔ انہوں نے امتیاز میر کے قتل کے ایک ہفتے کے بعد طفیل رند کے قتل نے سندھ کی دھرتی کو صحافیوں کے لئے لہولہان کر دیا ہے ۔ پی یوجے کے جنرل سیکرٹری قمرالزمان بھٹی نے کہا لاہور میں صحافیوں کا یہ احتجاج اپنے سندھ کے صحافی دوستوں اور قتل ہونے والے صحافیوں کی فیملیز سے اظہار یکجہتی ہے ۔ وزیراعلی سندھ صحافیوں کے قتل عام کا نوٹس لیں ۔ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کو اس قتل عام کے خلاف متحد ہو کر نکلنا ہوگا۔ ایپنیک کے سینئر رہنما اصغر خان نے کہا کہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز پر یہ مشکل ترین دور ہے جس کے لئے ہم سب کو جدوجہد کرنا ہوگی ۔ میڈیا ورکرز آرگنائزیشن کے صدر عدنان شوکت نے کہا کہ صحافیوں کے معاشی حقوق اور ان کی جان کے تحفظ کے لئے تمام میڈیا ورکرز پی ایف یوجے کا ہراول دستہ ہیں ۔ جب بھی اسلام آباد میں لانگ مارچ کی مارچ کی کال دی جائے گی ہم اس میں بھرپور شرکت کریں گے۔اجتماعی مظاہرے میں پی ایف یوجے کے ممبر ایف سی سی شفیق اعوان , پی یوجے کے جوائنٹ سیکرٹری مدثر حسین تتلہ ، اعجاز حفیظ خان ،شہزاد ملک ، جاوید اقبال ،سید احسن رضا، شہزاد فراموش ، ندیم شیخ ،جمال احمد ، عطیہ زیدی ، صلاح الدین بٹ ، اصغر بھٹی ، رانا عرفان ، اصغر چودھری ،، محبوب عالم ، ظہیر احمد ،سید شاکر علی ، امریز خان ، وقاص ظہیر ، تنویر ملک ، فرحان علی ،رانا خالد قمر ، کرم داد سمیت صحافیوں کی بڑی تعداد شریک ہوئے ۔
