تحریر:محمد ریحان احمد۔۔
اے آر وائی ، جیو ، آج ٹی وی ، جیو نیوز اور پھر ہم نیوز ۔۔۔آج سے 25سال سے کچھ پہلے ٹی وی کے میدان میں قدم رکھا ، ایم اے ماس کمیونکیکشن کے فاینل ایئر میں میجر ٹی وی الیکٹرونک میڈیا کے ساتھ ریز پروڈکشن میں فل ٹایم انٹرن شپ ایک ہزار روپے میں شروع کی ۔ پھر وہ مدثر عباسی صاحب کا محمد علی ہاوسنگ سوسائٹی کے بنگلے میں بنا ریز پروڈکشن اے آر وائی میں بدل گیا اور اصل مالکان یعنی حاجی اقبال صاحب اور حاجی رووف نے ملت فیکٹری سائٹ ایریا میں چینل شروع کیا ۔ میں نے شروع میں عبید بھائی کے ساتھ بطور اسسٹنٹ ڈائرکٹر کام کیا اور ساتھ ساتھ فاروق پریو سے بھی سیکھا ، خرم صلاح الدین نے مجھے لینئر ایڈیٹنگ سکھائی اور فیصل فاروق نے کیمرے کے کچھ اسرار و رموز سکھائے ، عدنان قریشی بھی ہمارے ساتھ تھے ۔ نعیم ماما اور رشید خان نے مجھے پہلی سیلری ایک ہزارروپے دی تھی ۔پروڈکشن مینجر الطاف بھائی تھے ۔
خیر ملت آئے تو یہاں بہت سے دوست اور ساتھی بنے ، الطاف میمن بھائی ، ظفریاب ، غیاث ، پرویز ، امجد ، فاروقی جو بعد میں کچھ دنوں کیلئے ہیڈ بھی بنے ۔قسمت اچھی تھی اے آر وائی میں دادا قاسم جلالی کے اسسٹنٹ شعیب ہوکلا بھائی کا اسسٹنٹ بنا ۔ قسمت مزید اچھی ہوئی تو دادا کی شفقت اور شعیب بھائی کے اعتماد نے فل اسسٹنٹ ڈائرکٹر بنادیا اور معین اختر ، خالد انعم جیسے فنکاروں کے ساتھ پورا سٹ کام کیا غالبا نام “ واہ بھئی واہ “ تھا ۔
دادا کے ساتھ سیف اسٹار گولڈ کوئز کی فلم اسٹار ندیم بیگ کی ریہرسل شروع کیں ۔یہاں سینئر ایڈیٹر لیاقت علی خان کی رہنمائی میں لینئر ایڈیٹنگ سیکھی ۔محسن مرزا جیسے سیٹ ڈیزائنر سے سیکھا یہاں عینی، شیراز، جنید اور عامر سے دوستی ہوئی ۔
جنید کے ابا بھی اے آر وائی میں تھے ۔شاہد الرحمن بھائی اور کما ل بھائ نے بھی بہت کچھ سکھایا۔منہاج کاظمی پی آر او تھے ۔ اس دوران اے آر وائی کی کمان اصغر مرزا ،مبشر لقمان اور فاروقی کو ملی ۔ دادا نے اے آر وائی کی پروڈکشن کا کام۔ کچھ عرصے کیلئے چھوڑا تو اقبال لطیف صاحب کے ساتھ اسسٹنٹ بننے کا موقع ملا ۔ ڈرامہ مہربان ہاوس میں سلیم شیخ ، کاشف محمود ، رابعہ نورین اور فایزہ جیسے اداکار تھے ۔۔ اب دو ہزار دو آچکا تھا ۔ میری تنخواہ چار ہزار ہوچکی تھی اور تجربہ شاید لاکھوں کا کیونکہ پورے ٹی وی چینل میں آرکایئو سے لیکر ایم سی آر کو سمجھنے کا موقع ملا حالانکہ ٹراسمیشن لندن سے چلتی تھیں۔ اپریل دو ہزار دو میں دوست اشعر زیدی جو رائٹرز کیلیے بھی کام کرتے تھے میرا سی وی بنوایا اور جیو میں فاروڈ کیا ۔
انٹرویو کال آگئی میں چلاگیا سامنے اظہر عباس، عبدالروف بٹ صاحب اور عمران اسلم صاحب تھے ۔ خیر اگلے دن کال آئی تو اظہر صاحب نے کہا کہ آپ کا جیو میں ہوگیا ہے اور آپ رووف صاحب سے مل لیں ،، میں گھبراہٹ میں اے آر وائی کے رووف بھائی کے پاس چلا گیا اس کے بعد نہ پوچھیں ۔ خیر مئی سے جیو کا سفر شروع ہوا پھر ٹریننگ پھر دبئی اور پھر دو ہزار چار پھر آج ٹی وی پھر ایک سال بعد سی این بی سی میں نہ جاتے ہوئے واپس جیو نیوز کا رخ کیا ، اب کی بار پندرہ سال بعد یعنی دوہزار بیس میں جیو سے ہم نیوز اسلام آباد آگیا ۔
خوش نصیب ہوں کہ اسسٹنٹ پروڈیوسر ، پروڈیوسر، سینئر پروڈیوسر ، ایگزیکٹو پروڈیوسر ، کنٹرولر نیوز سے ہوتے ہوئے ڈائریکٹر نیوز کی منزل تک پہنچایہ تحریر اے آر وائی ڈیجیٹل کی پچیسویں سالگرہ کے تناظر میں لکھی گئی ہے۔۔(محمد ریحان احمد کی وال سے لی گئی)۔۔
