روزنامہ جنگ کوئٹہ بھی ڈمی اخبار میں تبدیل۔۔

تحریر: میر اسلم رند

جنابِ وزیر اعلیٰ بلوچستان،آپ کے دورِ حکومت میں بھی نجی شعبے کی ظالمانہ بے دخلیاں پورے زور پر جاری ہیں۔ تازہ ترین مثال ملک کے سب سے بڑے میڈیا گروپ روزنامہ جنگ کی ہے، جس نے ایک ہی جھٹکے میں اپنے 250 ملازمین کو فارغ کر دیا جن میں کوئٹہ سے 37 صحافی و ورکرز شامل ہیں۔ یہ وہ کارکنان ہیں جنہوں نے 20 تا 36 برس تک جان ہتھیلی پر رکھ کر اس ادارے کو اس مقام تک پہنچایا، مگر آج اُن کی وفاداری، محنت اور پیشہ ورانہ تجربے کو ایک نوٹس تک دینا گوارا نہیں کیا گیا۔

کسی پیشگی اطلاع، تادیبی کارروائی یا واجب الادا تنخواہوں کی ادائیگی کے بغیر برطرفی۔متاثرہ ملازمین میں معمر صحافی، پروف ریڈر، پیج میکرز اور ٹیکنیکل اسٹاف شامل ہیں، جن کا صحافت کے سوا کوئی دوسرا ہنر نہیں۔

37 خاندان یک لخت بے روزگار؛ مکان کا کرایہ، بچوں کی فیس اور علاج معالجہ سب سوالیہ نشان بن گیا۔صوبے میں پہلے ہی روزگار کے محدود مواقع، عمر اور مہارت کی مخصوص نوعیت انہیں نئی نوکری ملنے سے روکتی ہے۔

جنگ گروپ بلوچستان حکومت سے ہر ماہ کروڑوں روپے کے اشتہارات وصول کرتا ہے؛ خسارے کا دعویٰ بے معنی ہے۔لیبر قوانین کے مطابق کم از کم تین ماہ قبل نوٹس اور واجب الادا تنخواہوں کی ادائیگی لازمی ہے جسے مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا۔

حکومتِ بلوچستان فوری طور پر جنگ گروپ کے صوبائی اشتہارات معطل کرے تاوقتیکہ برطرف شدگان کی بحالی یا مناسب مالی تصفیہ نہ ہو جائے۔صوبائی محکمہ محنت اور بی یو جے (بلوچستان یونین آف جرنلسٹس) مشترکہ انکوائری کمیٹی تشکیل دیں۔متاثرہ ملازمین کو کم از کم 30 سالہ سروس کے بدلے واجب الادا پنشن یا گولڈن ہینڈ شیک فراہم کیا جائے۔میڈیا مالکان کے خلاف لیبر قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانہ اور قانونی کارروائی کی جائے۔

یہ مسئلہ صرف 37 افراد کا نہیں، آزادیِ صحافت اور محنت کشوں کے حقوق کا امتحان ہے۔صوبائی حکومت کی خاموشی ادارتی استحصال کو تقویت دے گی اور دیگر نجی اداروں کو بھی یہی راستہ دکھائے گی۔

جنابِ وزیر اعلیٰ، یہ صحافی صوبے کی آواز تھے؛ اب وہ خود انصاف کی آواز بن کر آپ کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ براہِ کرم اپنی آئینی ذمہ داری ادا کیجیے، جنگ گروپ کو قانون کے دائرے میں لائیے، اور ان خ اندانو،ں کے روزگار و مستقبل کو سہارا دیجیے کیونکہ اندھیر نگری کا خاتمہ آپ کی جرأتِ فیصلہ سے ہی ممکن ہے۔

ملک کا معروف قومی روزنامہ جنگ کوئٹہ بھی ڈمی اخبار میں تبدیل۔ یاد رہے کہ جب سابق وزیراعلی نوب اکبر خان بگٹی کے دور پہ اس وقت کے ایڈیٹر حبیب اللہ خان کو جنگ کے مالکان نے نکالا تھا نواب بگٹی صاحب نے میر خلیل الرحمان کو کہا تھا کہ اپنا جنگ اخبار ہمارے صوبے سے منتقل کر دو ہمیں اپ کے اخبار کی ضرورت نہیں اپ ہمارے لوگ نکال رہے ہو۔(میر اسلم رند)۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں