تحریر:شمعون عرشمان
رمضان المبارک، جو روحانیت، برداشت اور اخلاقی تربیت کا مہینہ سمجھا جاتا ہے، اس سال بھی پاکستانی ٹی وی چینلز پر ریٹنگ کی دوڑ کا مرکز بن گیا۔ مختلف نجی چینلز کی رمضان ٹرانسمیشنز میں سنجیدہ مذہبی مباحث کے بجائے تنازعات، جذباتی مناظر اور سنسنی خیز گفتگو نے جگہ لے لی، جس پر سوشل میڈیا اور ناظرین کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
اے آر وائی کے مارننگ شو میں ندایاسر کے شو میں رمضان المبارک کے دوران بشری انصاری کے شوہر اقبال حسین نے ایسی گفتگو کی جسے ناظرین نے شدید ناپسند کیا اور سوشل میڈیا پر اس کے لتے بھی لئے۔۔پروگرام کے کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے، جہاں صارفین نے سوال اٹھایا کہ آیا مقدس مہینے میں اس نوعیت کی گفتگو مناسب ہے یا نہیں۔سما ڈیجیٹل کی رمضان ٹرانسمیشن میں ساحل عدیم اور ن لیگی خاتون رہنما عظمی کاردار کے درمیان کم عمری کی شادی پر تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، یہ پروگرام سما کے یوٹیوب چینل سے بعدازاں ڈیلیٹ کردیاگیا۔۔ٹوئنٹی فور نیوزکے مارننگ شو میں دوران رمضان ڈاکٹر نبیحہ علی خان کی شادی کے خاتون اینکر فضہ علی کے رونے دھونے کو ناظرین نے اوورایکٹنگ قرار دے دیا۔۔نیونیوز کی رمضان ٹرانسمیشن میں ساحل عدیم اور علامہ ہشام الہیٰ ظہیر گدھا حرام یا حلال پر لڑتے نظر آئے۔۔
میڈیا تجزیہ کاروں کے مطابق رمضان میں اشتہاری منڈی عروج پر ہوتی ہے، جس کے باعث چینلز زیادہ سے زیادہ ناظرین حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی مقصد کے تحت بعض اوقات سنجیدہ مذہبی اور سماجی موضوعات کو بھی تنازع یا جذباتی انداز میں پیش کیا جاتا ہے تاکہ پروگرام وائرل ہو اور ریٹنگ میں اضافہ ہو۔صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ رمضان ٹرانسمیشنز میں علمی مباحث، اخلاقی اصلاح اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینا بنیادی مقصد ہونا چاہیے، مگر ریٹنگ کی مسابقت میں بعض پروگرامز تفریحی یا متنازع رخ اختیار کر لیتے ہیں۔سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے سوال اٹھایا کہ کیا رمضان جیسے مقدس مہینے میں ٹی وی اسکرین پر جھگڑے، آنسو اور سنسنی خیزی دکھانا مناسب ہے؟ بعض نے پیمرا سمیت متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ رمضان ٹرانسمیشنز کے مواد کے لیے واضح رہنما اصول طے کیے جائیں۔میڈیا ماہرین کے مطابق ریٹنگ کی دوڑ اپنی جگہ، مگر چینلز پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ عوام کو معیاری، باوقار اور تعمیری مواد فراہم کریں۔ بصورتِ دیگر یہ تاثر مضبوط ہو سکتا ہے کہ رمضان المبارک بھی محض ایک “ہائی ویورشپ سیزن” بن کر رہ گیا ہے، جہاں اصل مقصد ناظرین کی تعداد بڑھانا ہے، نہ کہ اخلاقی و سماجی رہنمائی فراہم کرنا۔(شمعون عرشمان)۔۔
