تحریر: امجد عثمانی۔۔
پاکستان کے بزرگ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے سوشل میڈیا ویب سائٹس پر عجب دکھڑا رویا ہے۔۔دکھڑا کیا ہے لفظ لفظ اپنی حکومت کی بے بسی کا اعتراف ہے ۔۔۔۔اپنی ایک ٹویٹ میں لکھتے ہیں کہ کل میں نے سیالکوٹ کے سرکاری ہسپتال سردار بیگم ہسپتال کی نئی بلڈنگ کے افتتاح کی تقریب میں شرکت کی۔۔۔۔تقریب میں میڈکل کالج کی پرنسپل اور علامہ اقبال ہسپتال کے ایم ایس بھی موجود تھے۔۔۔
پتہ چلا ایک سال میں سیالکوٹ سے میڈکلُ کالج کے 22پروفیسر اپنی ٹرانسفر کروا کے لاہور جا چکے ییں کیونکہ وہ ان کی چوائس کا سٹیشن ہے اور وہاں پہ وہ پرائیویٹ پریکٹیس جیسے لوازمات سے مستفید ہو سکتے ییں۔۔۔۔
خواجہ صاحب نے لکھا کہ سیالکوٹ لاہور موٹر وے سے منسلک ہیں اور سفر میں 80منٹ لگتے ییں۔ میرا محکمہ صحت کے افسران بالا سے احترام و محبت کا تعلق ہے۔۔۔ بات کی تو پتہ چلا لاہور کے لیڈی ولنگڈن یسپتال سے اگر شایدرہ ہسپتال ٹرانسفر کی جائے تو ماتم برپا ہو جاتا ہے۔۔۔سفارشیں ہڑتالیں ۔۔۔اور پریشر کی بھر مار ہو جاتی ہے۔۔۔۔
خواجہ صاحب نے انکشاف کیا کہ یہ کلچر سار ی سرکاری ملازمت میں رائج ہے اور بااثر لوگ جن میں سیاست دان سر فہرست ہیں، اس کلچر کی پشت پناہی کرتے ہیں تا کہ وہ پھر اپنے سیاسی مفادات کا تحفظ کر سکیں۔۔۔۔سرکاری ملازموں کی اکثریت مرضی کی پوسٹنگ اور شہر حاصل کرنے کے لئے بااثر کنکشن کو استعمال کرتے ہیں۔۔۔۔
خواجہ صاحب نے یہ بھی اعتراف کیا کہ میں بذات خود اپنی سیاسی زندگی زیادہ تو نہیں مگر اس گناہ کا مرتکب رہا ہوں۔۔۔۔خواجہ صاحب لکھتے ہیں کہ مجھے خیال آیا خدانخواستہ اگر سویلین ملازمت والی یہ آپشن فوجی ملازمت میں بھی میسر یو تو ہمارا کیا بنے گا۔۔۔۔فوج میں مرضی کی پوسٹنگ یا
ٹرانسفر رکوانے کی گنجائش تو درکنار یہ جرم کے مترادف سمجھا جاتا ہے ۔۔کیونکہ وہاں یہ کلچر در آئے تو کون دہشت گردی کے خلاف جہاد کرے گا۔۔۔ کون وطن کی سرحدوں اور ہمارے گھروں کی حفاظت کے لئے جان قربان کرے گا۔۔۔۔ ہم چار سال میں 4000 شہیدوں کے جنازے اٹھا چکے ہیں۔ یہ سویلین ملازموں سے زیادہ تنخواہ نہیں پاتے۔۔۔سویلین ملازمین کی طرح انکی جیب میں سبز پاسپورٹ کیساتھ امریکہ کینیڈا برطانیہ پرتگال کا پاسپورٹ نہیں ہوتا۔۔۔۔میرے حلقے کا ایک پٹواری کینیڈا رہتا ہے اور اس کے کاروباری دفاتر یورپ میں ہیں ۔۔۔ اسکے سفارشیوں میں نامی گرامی لوگ ہیں۔۔۔ فوج کا ملازم قوم کے لئے جان قربان کرتا ہے۔۔۔سول ملازموں کی اکثریت قوم سے اپنی جیب کے لئے قربانی مانگتے ہیں۔۔۔ہم اس تضاد کے متحمل نہیں ہو سکتے۔۔۔۔ ہمیں اس کلچر کی بیخ کنی کرنا ہو گی۔۔۔
خواجہ صاحب نے ایک بار پھر تلخ حقائق سے نقاب الٹی ہے اور ہائبرڈ نظام حکومت پر بھی سنگین سوالات کھڑے کردیے ہیں ۔۔۔سوال یہ ہے کہ کیا خواجہ صاحب کسی اخبار یا ٹی وی چینل کے رپورٹر ہیں کہ انکشافات کرتے اور واہ سمیٹتے ہیں۔۔۔کوئی انہیں بتائے کہ وہ ملک کے وزیر دفاع ہیں۔۔۔کوئی انہیں یہ بھی باور کرانے کہ ملک میں گزشتہ چار سے ان کی جماعت ن لیگ کی حکومت ہے اور حکومتیں سوال نہیں اٹھاتیں۔۔۔ جواب دہ ہوتی ہیں۔۔۔!!!خواجہ صاحب بھی سوال نہ کریں۔۔۔۔جواب دیں کہ 22 پروفیسرز حکومت سے طاقت ور کیوں ہیں۔۔حکومت ایک پٹواری کے سامنے بے بس کیوں ہے؟؟( امجد عثمانی)۔۔
