خاتون صحافی کی جعلی وڈیووائرل،عطا تارڑ نے نوٹس لے لیا۔۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے صحافی بینظیر شاہ کی ’جعلی‘ ویڈیو کا نوٹس لے لیا، یہ پیش رفت اُس وقت سامنے آئی جب بینظیر شاہ نے بتایا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک ایسا اکاؤنٹ موجود ہے، جسے وفاقی وزیر اطلاعات فالو کرتے ہیں، اس اکاؤنٹ نے اُن کی اے آئی سے تیار کردہ جعلی ویڈیو بنا کر شیئر کی ہے۔بینظیر شاہ نے کہا کہ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ’جعلی ویڈیوز‘ بنائے یا صحافیوں کو ہراساں کرنے کے لیے ان کی بدنامی کی کوشش کرے۔ بینظیر شاہ نے ’ایکس‘ پر پوسٹ کیا کہ اس پلیٹ فارم پر موجود ایک اکاؤنٹ (جسے وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ فالو کرتے ہیں) نے ’میری اے آئی ویڈیو‘ بنائی ہے۔انہوں نے مزید لکھا کہ لیکن جیسا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں، دوبارہ کہیں گے کہ حملے ہمیں خاموش نہیں کرا سکتے۔یہ پوسٹ اس ویڈیو کے جواب میں تھی، جسے ’پاک ووکلز‘ نامی اکاؤنٹ نے شیئر کیا تھا اور اس کی وضاحت میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ بینظیر شاہ کی لندن کے ایک کلب میں ’ڈانس کرتی ہوئی لیک ویڈیو‘ ہے۔بعد ازاں،  عطااللہ تارڑ نے بینظیر شاہ کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ عمل بالکل ناقابلِ قبول اور انتہائی قابلِ مذمت ہے، آپ کی مہربانی، نوٹس لے لیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ جعلی ویڈیوز بنائے اور انہیں پھیلائے یا کسی بھی صحافی کو بدنام کرکے ہراساں کرے، میں ایک ہزار 900 سے زیادہ اکاؤنٹس فالو کرتا ہوں، اس اکاؤنٹ کے رویے کی ہرگز حمایت نہیں کرتا اور آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ کارروائی کی جائے گی۔سوشل میڈیا پر معاملہ سامنے آنے کے بعد متعدد صحافی بینظیر شاہ کی حمایت میں سامنے آئے۔صحافی زاہد گشکوری نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ڈیپ فیک قابلِ مذمت اور قابلِ سزا جرم ہے، اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں اور ویڈیو بنانے والے کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، باصلاحیت صحافی بینظیر شاہ کی مکمل حمایت کرتا ہوں، جو ہمیشہ حقائق، غیرجانبداری اور سچائی کے ساتھ کھڑی رہتی ہیں، آپ کے لیے مزید طاقت، ثابت قدم رہیں۔صحافی اسد علی طور نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ویڈیو میں نظر آنے والی خاتون بینظیر شاہ نہیں ہیں، وہ اس بات سے بھی مطمئن ہیں کہ ویڈیو شیئر کرنے والا اکاؤنٹ ’ن لیگی جھکاؤ‘ رکھتا ہے اور اسے (ن) لیگ کے میڈیا سے وابستہ افراد اور وزیر بھی فالو کرتے ہیں۔اینکرپرسن مہربخاری نے ایکس پر لکھا کہ ۔۔ ن لیگی حامیوں کا بینظیر شاہ کی جعلی اے آئی ویڈیو پھیلانا، یہ سب کسی طور بھی ہمارے معاشرتی کردار کی عکاسی نہیں کرتا۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں