جیو نیوز ای او بی آئی کے کنٹری بیوشن کا نادہندہ قرار، دو کروڑ روپے سے زائد (دوکروڑچارلاکھ اٹھانوے ہزارچارسوباون) کا ڈیمانڈ نوٹس جاری، سینکڑوں ملازمین کے پنشن سے محروم ہونے کا خدشہ، سات یوم کے اندر واجبات جمع کرانے کی ہدایت بصورت دیگر قانونی کارروائی کی جائے گی ۔
نجی شعبہ کے ملازمین کو ناگہانی صورت حال ریٹائرمنٹ، معذوری اور ان کی وفات کی صورت میں ان کے لواحقین کو تاحیات پنشن فراہم کرنے والے قومی فلاحی ادارہ ایمپلائیز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی)،زیر نگرانی وزارت سمندر پار پاکستانی و ترقی انسانی وسائل،حکومت پاکستان نے ملک کے ایک بڑے میڈیا ہاؤس انڈیپنڈنٹ میڈیا کارپوریشن( (پرائیویٹ) لمٹیڈ کے نشریاتی ادارہ جیو نیوز کو اس کے ملازمین کی پنشن کے واجب الادا کنٹری بیوشن کا نادہندہ قرار دیتے ہوئے دو کروڑ روپے سے زائدکا ڈیمانڈ نوٹس جاری کیا ہے۔ای او بی آئی کے امور پر گہری نظر رکھنے والے ادارہ کے سابق افسر تعلقات عامہ اور ڈائریکٹر سوشل سیفٹی نیٹ پاکستان اسرار ایوبی نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ای او بی آئی، ای او بی ایکٹ 1976 کے تحت دس یا زائد ملازمین کے حامل صنعتی،کاروباری، تجارتی اور دیگر اداروں کو ملازمین کے پنشن منصوبہ میں رجسٹر کرکے ان سے رواں کم از کم اجرت کے چھ فیصد کے مساوی ماہانہ کنٹری بیوشن وصول کرتا ہے جس میں آجر کاحصہ پانچ فیصد اور ملازم کا حصہ ایک فیصد مقرر ہے جو اس وقت فی ملازم دوہزاردوسوبیس روپے ماہانہ بنتا ہے۔ جبکہ ای او بی آئی مقررہ شرائط و ضوابط کے مطابق مرد ملازمین کوساٹھ برس اور خواتین ملازمین کو پچپن برس کی عمر میں مختلف تاحیات پنشن فراہم کرتا ہے۔ جس کی فی الحال کم از کم شرح 10 ہزار روپے ماہانہ ہے اور زیادہ سے زیادہ پنشن کا تعین پنشن فارمولہ کے مطابق کیا جاتا ہے۔رجسٹرڈ آجران کی جانب سے اپنے ملازمین کی فلاح و بہبود میں عدم دلچسپی کے عام رحجان،دیگر نامساعد حالات اور پنشن فنڈ کی قلت کے باوجود ای او بی آئی تقریبا پانچ لاکھ بزرگ، معذور ،بیوگان اور یتامی پنشنرز میں ماہانہ پانچ ارب روپے کی خطیر رقم تقسیم کرکے ان کی مالی کفالت کا قومی فریضہ انجام دے رہا ہے ۔
جیو نیوز رجسٹریشن نمبر AAB-02744 کے تحت ای او بی آئی میں رجسٹرڈ یونٹ ہے اور یکم مئی 2024 سے30 نومبر 2024 کی مدت کے لئے اپنے سینکڑوں بیمہ دار ملازمین کی پنشن کی مد میں دو کروڑ روپے سے زائد کے بھاری کنٹری بیوشن واجبات کا نادہندہ پایا گیا ہے ۔جیو نیوز کا آغاز اکتوبر 2002 میں ہوا تھا اور یہ 6 فروری 2003 سے ای او بی آئی میں رجسٹرڈ ہے۔ اگرچہ اس نیوز چینل کے ملازمین کی تعداد سینکڑوں میں بتائی جاتی ہے لیکن حیرت انگیز طور پر ای او بی آئی میں صرف 1341 ملازمین رجسٹر کرائے گئے ہیں جبکہ اس ادارہ کے 37 پنشنرز ای او بی آئی سے پنشن حاصل کر رہے ہیں ۔ ای او بی آئی ریجنل آفس ویسٹ وہارف کے ریجنل ہیڈ اختر علی نے 21 فروری 2025 کو جیو نیوز کو واجب الادا کنٹری بیوشن کی ادائیگی کے لئے ایک نوٹس جاری کیا تھا ۔ اب جبکہ موجودہ مالی سال اپنے اختتام پر ہے اور ریجنل آفس ویسٹ وہارف کراچی کو کنٹری بیوشن کی وصولیابی کا مقررہ سالانہ ہدف پورا کرنا ہے لیکن چار ماہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود جیو نیوز کی جانب سے ای او بی آئی کے واجب الادا کنٹری بیوشن 20,498,452 روپے کی ادائیگی نہیں کی گئی جس کے نتیجہ میں جیو نیوز کے سینکڑوں ملازمین اور ان کے لواحقین کے ای او بی آئی پنشن سے محروم ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
اس صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے حامد علی خان ڈائریکٹر بینی فٹس اینڈ کنٹری بیوشن برائے سندھ و بلوچستان نے نادہندہ یونٹ جیو نیوز کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا عندیہ ظاہر کرتے ہوئے سات یوم کے اند دو کروڑ روپے سے زائدکے ای او بی آئی کنٹری بیوشن واجبات جمع کرانے کا حتمی موقع دیا ہے بصورت دیگر جیو نیوز کے خلاف لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کے تحت بھاری واجبات کی وصولیابی کی کارروائی کی جائے گی، جس میں ادارہ کو سربمہر کئے جانے اور املاک کی قرقی کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹر حامد علی خان کا شمار ای او بی آئی کے فرض شناس اور دبنگ افسر ان میں کیا جاتا ہے جو ماضی میں بھی ہر قسم کے دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے اور مصلحت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے نادہندہ آجران اور میڈیا ہاؤسز میں خدمات انجام دینے والے سینکڑوں ملازمین اور ان کے لواحقین کے لئے تاحیات پنشن کو یقینی بنانے کے مقصد کے تحت مختلف نادہندہ طاقتور اداروں کو کنٹری بیوشن کی ادائیگی کے ڈیمانڈ نوٹس جاری کرکے ای او بی آئی کنٹری بیوشن کے بھاری واجبات وصول کرنے میں کامیابی حاصل کر چکے ہیں ۔حامد علی خان کی ہر ممکن کوشش ہے کہ بیشتر رجسٹرڈ آجران کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی کے باعث اخبارات اور بڑے بڑے میڈیا ہاؤسز میں خدمات انجام دینے والے سینکڑوں ملازمین اور ان کے لواحقین اپنی تاحیات قانونی ای او بی آئی پنشن سے کسی طور محروم نہ رہ جائیں ۔ لیکن باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ جیو نیوز کی جانب سے اپنے ذمہ دو کروڑ روپے سے زائد کے کنٹری بیوشن کے بھاری بقایاجات کی ادائیگی کرنے کے بجائے حکومت میں اپنا بھاری اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے ای او بی آئی پر اس ڈیمانڈ نوٹس کو واپس لینے کے لئے سخت دباؤ ڈالا جارہا ہے۔
