جیونیوز پر گالی چل گئی، چار ستمبر کو بارہ بجے دوپہر کے بلیٹن میں چند سیکنڈ کا ایک کلپ جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا۔ہیڈلائن میں سیلاب سے متاثرہ کمالیہ کے ایک رہائشی کا بیان نشر کیا گیا جس میں اس نے سیلاب سے اپنے مصائب بیان کرتے ہوئے روانی میں گالی بھی بک دی، چند سیکنڈ کا یہ کلپ سوشل میڈیا پر ایسا وائرل ہوا کہ جیونیوزانتظامیہ کو اس حرکت پر بلیٹن کے دوران معافی مانگنی پڑگئی، معافی میں کہا گیا کہ سیلاب سے متاثرہ کوریج کے دوران ایک شخص سے غیرشائستہ بیان نشر ہوگیا ادارہ اس سہو پر معذرت خواہ ہے۔۔ اس حوالے سے سابق اینکر طارق متین نے اپنے ویلاگ میں بتایا کہ جب انہوں نے اس واقعہ کی تحقیقات کیں تو پتہ چلا کہ یہ فوٹیج کوئٹہ کے فولڈر میں پڑی تھی جہاں سے کاپی کرکے اسے لگایا گیا، انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں یہ بتایا گیا جب تنخواہوں کے معاملات ٹھیک نہیں ہونگے، انکریمنٹ نہیں لگیں گے تو پھر کارکن بددلی سے کام کریں گے جس کانتیجہ سب کے سامنے ہے۔ معروف یوٹیوبر شہباز گل نے اس حوالے سے اپنے ویلاگ میں کہا کہ چند سیکنڈ کے اس کلپ نے حکومت کی سیلاب کے حوالے سے پوری پراپیگنڈہ کمپین کی تیاپانچہ کردیا، بالکل اسی طرح جیسے کچھ عرصہ قبل بارشوں میں چاچا ساجد نواز کا کلپ وائرل ہوا تھا۔۔سینئر صحافی عامر متین کا کہنا تھا کہ جیونیوز پر جب یہ گالی چلی تو حکومت یہ سوچ رہی ہے کہ یہ جان بوجھ کر ہمارے ساتھ کیاگیا،انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ اطلاع یہ ہے کہ اس وقت شفٹ انچارج لکھنئو سے تھے اور پنجابی اصطلاح کی واقفیت نہیں رکھتے تھے مگر پنجاب حکومت کو شک ہے کہ جیو نے ہمارے سازش کی ہے۔ایک اور ٹوئیٹ میں وہ لکھتے ہیں کہ۔۔آشیانہ ڈوبا، فصلیں ڈوبیں…. محترم اینکر صاحبہ پنجابی زبان کو آسان اردو میں سمجھاتے ہوئے رک گئیں۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ پنجابی چینی زبان کی طرح ان نہایت منفرد زبانوں میں شامل ہے جسے ٹونل کہا جاتا ہے۔ یعنی لفظ کی ادائیگی، لہجہ اور ساونڈ کے ساتھ اکثر اک لفظ میں پوری بات سمجھا دی جاتی ہی۔ گالی بری چیز ہے مگر پنجابی اختصار میں وقت ضائع نہیں کیا جاتا۔ اک لفظ میں سمندر پرویا جاتا ہے۔ اب اسے خوبی کہہ لیں یا خرابی۔ لغیات کے ماہر اسے خوبی مانتے ہیں۔ پنجاب حکومت کے لیے مشکل فیصلہ ہے کہ اس جماندرو کی تردید کرنی ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔ یا خاموش رہ کر اسے پی جانا ہے۔ کیونکہ پنجاب والے بات سمجھ چکے۔ لکھنؤ والوں کے لیے زرا مشکل ہے اس کو ہضم کرنا۔ لفاظی کو چھوڑیں سوال یہ ہے کہ کیا ایسا ہوا ہے۔ اگر نہیں ہوا تو پھر تردید تو کرنی چاہیے۔ جیو کا کریڈٹ ہوتا تھا کہ ہر دور میں مشکلات کے باوجود وہ سچ بات کر جاتے تھے چاہے ٹوسٹ کر کے کریں۔ بڑے عرصے بعد دیکھا کہ شکیل الرحمان نے جان پکڑی ہے۔ بجائے مذمت کے اب کیا اس کی تعریف ہونی چاہیے؟ باقی گال نئ کڈنی چائ دی سی چھور نوں۔۔پپو کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ تاحال اس بلنڈر کے ذمہ دار نہیں ہوسکا ہے، پپو کا مزید کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے دباؤ کےبعد جیونیوز کو اگلے بلیٹن میں اس گالی کےحوالے سے معذرت چلانی پڑگئی۔
جیونیوز پر گالی کے بعد معافی کیوں مانگی گئی؟؟
Facebook Comments
