جہان پاکستان کے متاثرین 8 ماہ سے واجبات سے محروم۔۔

جرنلسٹ فاؤنڈیشن پاکستان کے مرکزی صدر زیڈ اے ملک کی زیر صدارت ہنگامی اجلاس اسلام آباد میں ہوا، اجلاس میں مرکزی جنرل سیکرٹری سینئر نائب صدر ارشد بلوچ ، نائب صدر سیف اللہ انجم ، فنانس سیکرٹری خیام عباسی، سیکرٹری اطلاعات عامر محبوب ، جوائنٹ سیکرٹری محمد ضمیر، ظہیر عالم ، ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات قمر عباسی ، چیف کو آرڈینیٹر ملک منیر ، کو آرڈی نیٹر کوثر قریشی ممبران گورننگ باڈی خالد جمیل ہاشمی ضمیر اسدی مصطفی هاشمی ، ریاض اختر ، حلیمه گیلانی، فائزہ شاہ کاظمی ، کرن خان، آوش اعوان ، شہزاد سلیم ، نثار صائم ، عمر فاروق کھوکھر شہز اد امتیاز ، محمد اخلاق ، کامران اشرف ، عقیق دھنیال، احسن اسلم ، راشد اشرف، حمزه اقبال ، قمر رشید سرفراز گجر ، عبیدستی ، حسنین راجہ نے شرکت کی جبکہ صدر گلف ریجن اشتیاق احمد عباسی ، کو آرڈی نیٹر بہاولپور رائے خالد کھرل ، ڈپٹی کو آرڈی نیٹر بہاولپور جمشید علی اختر کو آرڈی نیٹر بہاولنگر ملک خرم شہزاد، کو آرڈی نیٹر بھلوال ملک اقبال کو آرڈی نیٹر بلوچستان ظفر کھتران، کو آرڈی نیٹر جھنگ شفقت سیال، کو آرڈی نیٹر ہری پور ملک فیصل کو آرڈی نیٹر پشاور، کو آرڈی نیٹر لاہور، کو آرڈی نیٹر سندھ ارشاد میمن کو آرڈی نیٹر میر پور قاضی عابد، کوآرڈی نیٹر کنجوانی ملک محمد فاروق ، کو آرڈی نیٹر رحیم یار خان جام اصغر کو آرڈی نیٹر بھکر سید مشرف علی شاہ کو آرڈی نیٹر پاکپتن سید مشتاق حسین نقوی کو آرڈی نیٹر ملتان سمیت دیگر اضلاع کے کو آرڈی نیٹرز نے آن لائن شرکت کی ۔ اجلاس میں روز نامہ جہان پاکستان کی طرف سے نکالے گئے صحافیوں اور میڈ یا ور کز کو بقایا جات ادانہ کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ روز نامہ جہان پاکستان نے اپریل 2025 میں اسلام آباد، لاہور اور کراچی سے بڑی تعداد میں صحافیوں اور میڈیا ورکز کو بغیر کسی پیشگی نوٹس اور بقایا جات دیئے بغیر نکال دیا تھا، متاثرین آٹھ ماہ سے بقایا جات کے حصول کے لئے روز نامہ جہان پاکستان کے دفاتر کے چکر لگا لگا کر عاجز آگئے ہیں، ادارے کی انتظامیہ بقایا جات دینے کے بجائے ہر بارٹر خادیتی ہے ان تمام عوامل کو دیکھتے ہوئے جرنلسٹ فاؤنڈیشن کی کابینہ نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ متاثرین کے بقایا جات لینے کی جدو جہد کے پہلے مرحلے کا آغاز اسلام آباد سے کیا جائے گا ، تمام متاثرین کے ہمراہ عبادت یونیورسٹی جاپان روڈ اسلام آباد کے باہر دھرنا دیا جائے گا۔ بعد ازاں احتجاج کا دائرہ کار لا ہور اور کراچی تک بڑھایا جائے گا۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں