ملک کے پانچ بڑے پریس کلبز نے جنگ گروپ کے اخبار روزنامہ آواز کی بندش اور روزنامہ جنگ سے بڑی تعداد میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی جبری برطرفیوں پر شدید تشویش کااظہار کرتے ہوئے حکومت سے جنگ گروپ کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کا مطالبہ کیا ہے ۔اپنے مشترکہ بیان میں کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، سیکرٹری سہیل افضل خان، لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری، سیکرٹری زاہد عابد ، نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے صدر اظہر جتوئی، سیکرٹری نیئر علی ،پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض، سیکرٹری شہزادہ فہد اور کوئٹہ پریس کلب کے صدر عرفان سعید اور سیکرٹری ایوب ترین نے روزنامہ آواز کی بندش اور جنگ گروپ سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی جبری برطرفیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ گروپ نے 175 سے زائد صحافیوں کو بیک جنبشِ قلم بے روزگار کردیا جنگ گروپ نے نہ صرف سینکڑوں خاندانوں کا معاشی قتل کیا بلکہ اخباری صنعت اور لیبر کے تمام مروجہ قوانین کو بھی پس و پشت ڈال دیا ہے۔ جنگ انتظامیہ کے اس اقدام نے میڈیا انڈسٹری کو معاشی بحران کی طرف دھکیل دیا ہے ۔ جنگ گروپ انتظامیہ نے جس طرح ملازمین کو اچانک نوکریوں سے برطرف اور ایک چلتا ادارہ بند کیا یہ اقدام غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہے۔وفاقی وصوبائی حکومتیں جنگ گروپ کو اربوں روپے کے اشتہارات دیتی ہیں لہذا جنگ گروپ کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت جنگ گروپ سے ریاست کے قوانین پر عملدرآمد کروائے۔ روزنامہ آواز کی بندش کا فیصلہ واپس لیا جائے اور جنگ گروپ سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی جبری برطرفیوں کا سلسلہ روکا جائے۔ انہوں نے حکومت سے مزید مطالبہ کیا کہ اشتہارات کو ورکرز کی تنخواہوں سے مشروط کیا جائے۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر جنگ گروپ نے مطالبات پر عمل نہ کیا تو جنگ گروپ کے آفسز کے گھیرائو سمیت ہر فورم پر احتجاج کیا جائے گا۔
