پنجاب اسمبلی پریس گیلری کمیٹی کی جانب سے روزنامہ آواز کی بندش اور روزنامہ جنگ سے کارکن صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی جبری برخاستگیوں کے خلاف اسمبلی اجلاس کا بائیکاٹ کیا گیا۔روزنامہ آواز کی بندش اور جنگ سے کارکن صحافیوں کی جبری برخاستگی کے خلاف ہونے والے بائیکاٹ کے ساتھ اظہار یک جہتی کیلئے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے سیکرٹری جنرل اورلاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری اور پنجاب یونین آف جرنلسٹ کے سیکرٹری جنرل قمر الزمان بھٹی نے خصوصی طور پر شریک ہوئے۔ پریس گیلری کے احتجاج کے خاتمے کیلئے اسپیکر کی جانب سے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی جبکہ وزیر اطلاعات عظمی زاہد بخاری نے ایوان کو یقین دلایا کہ حکومت روزنامہ اواز کی بندش اور روزنامہ جنگ سے صحافی کارکنوں کی جبری برخاستگی کے پر صحافی برادری کو ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔ پنجاب اسمبلی اجلاس کے آغاز پر پریس گیلری کمیٹی نے روزنامہ آواز کی بندش اور روزنامہ جنگ سے کارکن صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی برخاستگی کے خلاف اسمبلی سیشن کا بائیکاٹ کیا۔ پریس گیلری کمیٹی کی جانب سے کئے جانے والے بائیکاٹ میں قمر الزمان بھٹی، رائو دلشاد، عائشہ صغیر، نواز طاہر، محبوب عالم سمیت صحافیوں کی کثیر تعدادشریک ہوئی۔ اپوزیشن رکن میاں اعجاز شفیع نے بائیکاٹ کی نشان دہی کی جس پرا سپیکر ملک محمد حمد خان نے صحافیوں سے مذاکرات کیلئے رانا ارشد، سردار شیر علی گورچانی اور راحیلہ خادم حسین پر مشتمل تین رکنی کمیٹی تشکیل دی۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے سیکرٹری جنرل اور لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری نے کمیٹی کو صحافیوں کے مطالبات سے آگاہ کیا۔ صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری نے کمیٹی کو بتایا کہ 175 سے زائد صحافیوں کو بیک جنبشِ قلم بے روزگار کردیا گیا۔ جنگ گروپ نے نہ صرف سینکڑوں خاندانوں کو معاشی قتل کیا بلکہ اخباری صعنت اور لیبر کے تمام مروجہ قوانین کو بھی پس پشت ڈال دیا ہے۔ جنگ مینجمنٹ یہ اقدام میڈیا انڈسٹری کو معاشی بحران کی جانب دھکیلنے کا باعث بن سکتا ہے جس پر وزارت اطلاعات کو فوری طور پر مداخلت کرنی چاہئیے کمیٹی کے یقین دلانے پر کہ روزنامہ آواز کی بندش اور جنگ سے کارکنوں کی برخاستگی کے معاملے کو ایوان میں فوری اٹھایا جائے گا پریس گیلری نے احتجاج ختم کیا۔ ایوان میں گفتگو کرتے وزیر اطلاعات عظمی زاہد بخاری نے کہا کہ حکومت ورکنگ جرنلسٹوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے روزنامہ آواز کی بندش اور جنگ سے میڈیا ورکرز سمیت کارکنوں کی برخاستگی پر صحافی برادری کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔ بعد ازاں پنجاب اسمبلی پریس گیلری کے بائیکاٹ کے بعد پریس گیلری کے صدر خواجہ نصیر اور پی یوجے کے جنرل سیکرٹری قمرالزمان بھٹی کی وزیر اطلاعات عظمی بخاری سے اسمبلی میں ان کے دفتر میں ملاقات ہوئی۔ صحافیوں کے نمائندہ وفد نے وزیر اطلاعات پنجاب کو روزنامہ آواز کی بندش اور جنگ گروپ میں 170 سے زائد بے روزگار کیے گئے صحافیوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ ملاقات میں صوبائی وزیر اطلاعات عظمی بخاری کا سیکرٹری جنرل پی ایف یو جے اور صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری سے ٹیلی فونک رابطہ کیا گیا۔ وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ حکومت روزنامہ آواز کی بندش کی مذمت کرتی ہے اور جنگ سے نکالے گئے ورکرز کی مکمل حمایت کرتے ہیں، برطرف ملازمین کے حقوق کیلئے وزیراعلی پنجاب سے خود رابطہ کروں گی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی پریس گیلری کمیٹی کے صدر خواجہ نصیر نے کہا کہ جنگ گروپ کی انتظامیہ نے جس طرح ملازمین کو اچانک نوکریوں سے نکالا اور ایک چلتا ادارہ بند کیا یہ غیر قانونی بھی اور غیر اخلاقی بھی ہے،پنجاب حکومت جنگ گروپ کو اربوں روپے کے اشتہار دیتی ہے ۔ اس بنا پر حکومت جنگ گروپ سے ریاست کے قوانین پر عملدرآمد کروائے۔ سیکرٹری جنرل پنجاب یونین آف جرنلسٹ قمر الزماں بھٹی کا کہنا تھا کہ روزنامہ آواز کی بندش کا فیصلہ واپس لیا جائے اور جنگ گروپ کے ملازمین کو نوکریوں سے نکالنے کا سلسلہ روکا جائے۔
جنگ گروپ میں برطرفیاں،صحافیوں کا پنجاب اسمبلی سے بائیکاٹ۔۔
Facebook Comments
