میری  معافی حاضر ہے، بس تھوڑی اسپیس چاہیئے، سہیل وڑائچ۔۔

جنرل عاصم منیر صحافیوں سے ملنے سے گریزاں ہیں، سہیل وڑائچ۔۔

سینئر صحافی، کالم نویس و تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ۔۔پاکستانی صحافت کیلئے کافی عرصہ سے ایک مسئلہ جو چیلنج کی صورت اختیار کیے ہوئے ہے وہ ہے فیلڈ مارشل حافظ عاصم منیر کی شخصیت، ان کے خیالات اور ان کے مزاج کا پتہ چلانا ۔ سچ تو یہ ہے کہ فی الحال صحافت اس معاملے کا کھوج لگانے میں ناکام ہے۔روزنامہ جنگ میں تحریرکردہ اپنے تازہ کالم میں ان کا کہنا تھا کہ۔۔ جنرل عاصم منیر نہ تو جنرل باجوہ کی طرح رات کو صحافیوں سے لمبی لمبی ملاقاتیں کرکے اپنا فلسفہ سمجھاتے ہیں، نہ جنرل کیانی کی طرح دھویں کے مرغولوں میں اپنے ارادوں کا اظہار کرتے ہیں اور نہ ہی وہ جنرل راحیل شریف کی طرح آئی ایس پی آر کے ذریعے سیاسی اور صحافتی جنگ لڑتے ہیں۔ جنرل عاصم منیر صحافیوں سے ملنے سے گریزاں ہیں ان کی صحافیوں سے ملاقاتیں صرف دعا سلام تک محدود ہیں، شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ وہ ماضی کے فوجی سربراہوں کے صحافیوں کے سامنے اپنے ارادوں کے اظہار کو غلط سمجھتے ہوں!۔ میں نے ذاتی طور پر پروفیشنل صحافی کی حیثیت سے کئی بار ملاقات اور گفتگو کا وقت لینے کی درخواست کی ہے لیکن ہر دفعہ شائستگی سے ٹال دیا گیا۔بعض لوگوں کے خیال میں ملاقاتوں اور اظہار خیال سے پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں تو کئی دفعہ خاموشی سے افواہیں اور غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں، صحافیوں کے خیال میں مسلسل خاموشی، ملاقاتوں سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے مگر اس صحافیانہ استدلال کو کون سنتا ہے؟ صحافی سمجھتے ہیں کہ ماضی میں افواہیں اور غلط فہمیاں پھیلتی رہی ہیں اور پھیل رہی ہیں۔ ایک سابق ایڈیٹر حال مقیم امریکہ نے بغیر تصدیق کے یہ جھوٹی خبر چلا دی کہ چیف آف آرمی سٹاف کی تقرری سے پہلے اِس عاجز نے نواز شریف اور جنرل صاحب کی ملاقات کروائی تھی حالانکہ اس وقت تک میں نے جنرل صاحب کو صرف ٹی وی پر دیکھا تھا اور نواز شریف میرے ساتھ عمران خان کی حمایت کرنے پر ناراض ہوگئے تھے اور آج تک ہیں۔ بہرحال صحافت میں ایسا ہوتا رہتا ہے کسی سے شکوہ شکایت کیا کرنا؟

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں