جو دکھایا جو بتایا وہی سچ تھا، مگر سزا بنا دیا گیا۔احمدپور شرقیہ کے صحافی عمران اکبر خان پر تھانہ سٹی میں مبینہ غفلت کی رپورٹنگ کے چند روز بعد جھوٹا مقدمہ درج کر دیا گیا۔ مقدمے کو صحافتی حلقوں نے آزادیٔ صحافت پر حملہ قرار دے دیا۔عمران اکبر نے 29 مئی 2025 کو تھانہ سٹی کے عقب میں موجود گندگی، جھاڑیوں اور سیکیورٹی خدشات پر ایک تنقیدی رپورٹ نشر کی تھی۔ تاہم، صرف 13 دن بعد 11 جون کو انہیں ایک روڈ بلاک احتجاجی مقدمے میں نامزد کر دیا گیا، حالانکہ وہ اس وقت بطور صحافی موقع پر کوریج کر رہے تھے۔صحافی عمران اکبر کا کہنا ہے کہ یہ اقدام آزادیٔ صحافت کے خلاف انتقامی کارروائی ہے۔ ان کا کہنا تھا صحافت میرا جرم نہیں، سچ بولنا شاید کچھ لوگوں کو گوارا نہیں۔انہوں نے اعلیٰ حکام، صحافتی تنظیموں، بار ایسوسی ایشنز اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ اس جھوٹے مقدمے کا فوری نوٹس لیا جائے اور ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔مقامی صحافیوں، وکلا اور سول سوسائٹی نے بھی اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے آزاد صحافت کی راہ میں خطرناک رجحان قرار دیا ہے۔
