تحریر: شمعون عرشمان۔۔
جب بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی تناؤ پیدا ہوتا ہے، تو سب سے پہلے میدان میں اترتا ہے بھارتی میڈیا، اور ایسا لگتا ہے جیسے نیوز چینل نہیں بلکہ فلمی ولن کی فوج ہو۔ بریکنگ نیوز کا طوفان آتا ہے، پٹاخے بجتے ہیں، میزبان اینکر جنگی یونیفارم میں مائیک تھامے گرجتے ہیں: بس اب بہت ہو گیا! اب پاکستان کو سبق سکھانا ہوگا!۔۔
ہم پاکستانی سوچتے ہیں: یار سبق تو ہم نے میٹرک میں چھوڑ دیا تھا، اب یہ کون سا مضمون ہے؟
بھارتی میڈیا کو اگر فلموں میں تبدیل کر دیا جائے تو ہالی وُڈ بھی شرما جائے۔ ہر نیوز چینل ایک نیا بلاک بسٹر بناتا ہے۔ نیوز روم میں میزبان کے پیچھے لڑاکا طیاروں کی تصویریں، میز کے نیچے سے دھواں، اور ساتھ میں مسلسل ڈرم کی آواز۔
ہم نے 300 دہشت گرد مار دیے!۔۔پوچھیں کہاں؟۔۔کہتے ہیں:بس مار دیے، ثبوت مانگنا غداری ہے!۔۔یعنی فلم چلے بغیر ٹکٹ بھی بک چکی، اور انعام بھی مل گیا!
2016 اور 2019 کے سرجیکل اسٹرائیکس کو بھارتی میڈیا نے ایسے پیش کیا جیسے رامائن کا نیا ایڈیشن ریلیز ہوا ہو۔ڈاکٹر، انجینئر، استادسب کو جنگی تجزیہ نگار بنا کر ٹی وی پر بٹھا دیا گیا۔ کچھ تو ایسے بول رہے تھے جیسے وہ خود F-16 لے کر واہگہ پر پرواز کر چکے ہوں۔ادھر پاکستانی عوام نے کڑاہی چکن بناتے ہوئے، دہی بھلے کھاتے ہوئے صرف ایک سوال پوچھا:سرجیکل اسٹرائیک کا مطلب کیا ہوتا ہے؟ ڈاکٹروں کا کوئی نیا کورس ہے؟
2019 میں جب ایک بھارتی پائلٹ ابھینندن پاکستانی حدود میں چائے پیتے پکڑے گئے، تو بھارت نے پوری قوم کی سانسیں روک دیں۔ادھر ہم نے اسے چائے پلا دی نہ صرف پکا پاکستانی قہوہ، بلکہ پورے امن کا پیغام۔وہ مشہور جملہ آج بھی گونجتا ہے: ٹی از فنٹاسٹک۔۔۔
بھارتی عوام کو تو لگتا ہے یہی اصل جنگ ہے، اور صبح 6 بجے قومی ترانے کے ساتھ فتح کا اعلان ہو جائے گا۔
پاکستان بار بار امن کا پیغام دیتا ہے۔ وزیراعظم، وزیر خارجہ، اور عوام سب کہتے ہیں: “ہم جنگ نہیں چاہتے!
بھارتی میڈیا کہتا ہے:یہ امن نہیں، چالاکی ہے!۔۔یعنی اگر ہم مسکرا دیں تو وہ کہتے ہیں:طنز ہے!۔۔اگر ہم خاموش رہیں:یہ چالاکی ہے!۔۔اور اگر ہم بات کریں:یہ نفسیاتی جنگ ہے!
بھئی کچھ بھی کریں، بھارتی میڈیا کو ہمیشہ لگتا ہے کہ پاکستان اگلا کرشنا ہے جو “مہابھارت” شروع کرنے والا ہے!
دونوں ممالک میں کروڑوں لوگ امن چاہتے ہیں۔مگر بھارتی میڈیا کو شاید نیوز ریٹنگز کی جنگ زیادہ عزیز ہے۔پاکستانی عوام اس سارے منظر کو اکثر مزاحیہ انداز میں دیکھتے ہیں،
آخر میں بس یہی عرض ہے:
کبھی کبھی بیٹھ کر چائے پی لیا کرو،
جنگ کے سپنے چھوڑو، ہنسی بانٹ لیا کرو!(شمعون عرشمان)۔۔
