بڑے اور مہنگے اشتہارات کی نجکاری کردی گئی۔۔

(رپورٹ: آغاخالد)۔۔شرجیل میمن کا ایک اور کارنامہ محکمہ اطلاعات سندھ سے کمیشن مافیا کا خاتمہ کرتے ہوئے بلنگ سسٹم کو آن لائن کردیا جو لوگ صبح شام پی پی کی کمزوریوں پر شدید تنقید کرتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ اس کے مثبت کاموں (کم ہی سہی) کی تعریف نہ سہی ان کا اعتراف تو کریں، اس طرح بڑے اشتہارات اور مختلف منصوبوں کی کروڑوں کی تشہیر کی بھی نجکاری کردی گئی ہے اور اب وہ اشتہارات بھی محکمہ اطلاعات کی سرکاری مشینری کی بجائے تشہیری ایجنسیاں اپنے 15 پرسنٹ کمیشن کے ساتھ جاری کرہی ہیں بلنگ سسٹم کو آن لائن کرنے سے اخبارات اور ٹی وی کو ملنے والے ماہانہ کروڑوں روپیہ کے اشتہارات پر 15 سے 50 فیصد کمیشن دینا پڑتا تھا ورنہ اس کے بغیر بل کی رقم نہ دارد تاہم آن لائں ہونے کا براہ راست صارف کو ابھی فائدہ نہیں پہنچ رہا کیونکہ اے جی سندھ جو گزشتہ دو دہائیوں میں ترقی کرکے ماشااللہ صوبے کا سب سے بڑا کمیشن خور ادارہ بن چکاہے وزیر اطلاعات کے اس اقدام کو ہضم نہیں کر پارہا پہلے انہوں نے کہاکہ ہمارا سسٹم پر ماہ کے کروڑوں کے چیک اور اس کے ساتھ اشتہارات کی مکمل تفصیلات کو برداشت نہیں کر پارہا ہمیں 15 روز دیے جائیں تاکہ ہم اپنا سسٹم اپ ڈیٹ کرسکیں اور یہ معیاد گزر جانے کے بعد بھی وہ آن لائن بلنگ کے لیے تیار نہ تھے جس پر محکمہ اطلاعات نے اپنی مجبوری سے انہیں آگاہ کیاکہ ہم پر بلنگ کے لیے اخبارات و ٹی وی چینلز کا شدید دبائو ہے تو انہوں نے قسطوں میں بلنگ کرنے کی اجازت دیدی یہ اس ادارے کا حال ہے جسے انگریز دور میں سرکاری بلنگ میں فراڈ روکنے کے لیے بنایا گیا تھا اور آخری نگرانی اس ادارہ کی ذمہ داری تھی مگر اینٹی کرپشن، ایف آئی اے اور نیب کی طرح یہ ادارہ بھی بدعنوانی روکنے کی بجائے گوڈے گوڈے اس میں دھنس چکا ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں