اے جی این نیوز بیگارکیمپ میں تبدیل، لائسنس منسوخ کرنے کا مطالبہ۔۔۔

پنجاب یونین آف جرنلسٹس کی ایگزیکٹو کونسل نے اے جی این نیوز میں صحافیوں کے جبری استحصال کی شدید مذمت کی ہے۔ اپنے ایک مذمتی بیان میں پی یوجے کی ایگزیکٹو کونسل نے واضح کیا ہے کہ اے جی این نیوز اس وقت کارکنوں کے لیے بیگار کیمپ بن گیا ہے، ڈائر یکٹر نیوز ایوب اعوان کی تنخواہ میں جبری کٹوتی ، ان کی جبری برطرفی اور واجبات کی عدم ادائیگی کا رکنوں کے جبری استحصال کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ادارے میں ہر قسم کی چھٹیاں بند ہیں، بڑی عید ہو یا چھوٹی، عاشورہ محرم الحرام ہو یا 14 اگست ، کسی قسم کی کوئی چھٹی یا تعطیل کی سہولت میسر نہیں ، قانون ۔ کے مطابق ایک ماہ میں چار چھٹیاں ہوتی ہیں مگر اے جی این میں نہیں ۔ جہاں دو چھٹیوں کی اجازت ہے اس کے بعد تنخواہ کاٹ لی جاتی ہے۔ ادارے میں کارکنوں کی جبری برطرفی عام بات ہے، کسی کو بھی کسی وقت نوکری سے بغیر ادائیگی نکال دیا جاتا ہے۔ کارکنوں کو جعلی مقدمات میں ملوث کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ احتجاج کرنے والے کارکنوں پر تشد د عام بات بن چکی ہے۔ ایک سینئر پروڈیوسر کو متعدد مرتبہ نہ صرف سب کے سامنے تشدد کا نشانہ بنایا گیا بلکہ بہت سے کارکنوں کے پیسے بھی مارے گئے ہیں۔ ادارے کا چیئر مین ہر کسی کو غلیظ گالیاں دینا اپنا فرض سمجھتا ہے۔ خواتین کو گالیاں دینا اور ان کے سامنے غلیظ زبان استعمال کرنا چیئر مین کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ بنیادی انسانی حقوق کی پامالی یہاں عام بات ہے۔ پنجاب یونین آف جرنلسٹس پیمرا اور حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ انسانی حقوق کی پامالی اور کارکنوں پر ظلم و تشدد کے واقعات کے بعد ایسے نیوز چینل کا لائسنس فوری منسوخ کر کے اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں