عید سر پر ہے مگر ایک نیوز کے ملازمین آج بھی تنخواہوں کے منتظرہیں ۔۔۔جو لوگ دن رات چینل میں کام کررہے ہیں اُن کے گھروں میں عید کی خوشی تک مشکل ہو گئی ہے۔ایک نیوز میں بحران ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے ،چیف آپریٹرنگ آفیسر کے جانے کے بعد ایک سئنیر صحافی ایک نیوز کے صدر بنے مگر ایک نیوز میں کچھ بھی بہتری نہیں ائی ،،اگر مارچ کی بات کی جائے متعدد نیوز روم اسٹاف ریزئن کرچکا ہے ،تین چار لوگ نوٹس پریڈ پر ہے ،تمام بیوروز کی ڈی ایس این جی میں فیول نہیں ،ایک نیوز کے اسائنمنٹ ایڈیٹر دوسرے چینلز سے نیوز فوٹیجز ارینج کرکے بیوروز چلا رہے ہیں ،کسی بھی ایونٹ پر ڈی ایس این جی کے پاس فیول نہیں ہوتا ،ایک نیوز کے واٹس ایپ گروپ میں سیلری کب دینگے کے سوالات پوچھے جاتے ہیں۔۔ایک بیورو کے گروپ میں سنئیر رپورٹرنے گزشتہ روز یہ میسیج ڈالا کہ۔۔ہیڈ آفس میں جس رفتار سے خبریں سکرپٹ پیکجز مانگے جاتے ہیں کاش اس سے آدھی رفتار سے اسٹاف کو تنخواہ دینے کا بھی سوچا جاتا عید سر پر ہے بچوں کو کپڑے لیکر دینے دیگر ضروریات پوری کرنی ہیں اور ہر روز نیا لارا لگادیا جاتا ہے دوسروں کی روز خبریں دیتے ہیں کسی دن خود خبر بن جائیں گے اور ادارہ صرف یہ کہے گا مرحوم اچھا رپورٹر تھا ۔۔
