ایک تعلیمی مصلح اور وژنری ،ریحان اللہ والا

تحریر: ریحان مصطفیٰ۔۔

تیز رفتاری اور جدت سے پھر پور آج کی  دنیا میں جہاں تعلیم محض روایتی ڈگریوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے، علم کا حصول صرف دکھا وے اور زیادہ سے زیادہ پینتیس چالیس ہزار روپے ماہانہ کی نوکری سے زیادہ کچھ نہیں رہ گیا   وہیں کچھ روشن ذہن ایسے بھی ہیں جو نہ صرف تعلیم کے مفہوم کو موجودہ زمانے سے ہم آہنگ کر کے نئی تازگی  بخش رہے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو معاشی طور پر خود کفیل اور بااختیار بنانے کے لیے ٹھوس اور پائیدار راستہ بھی بنا رہے ہیں۔ گزشہ دنوں ایک ایسی ہی علمی شخصیت سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا یہ شخصیت تھی ریحان اللہ والا کی۔

ان سے ہونے والی گفتگو محض ایک ملاقات نہیں تھی، بلکہ مستقبل کے ایک ایسے خواب کی تعبیر کو قریب سے دیکھنے کا تجربہ تھی جو حقیقت کے دھارے میں ڈھل رہا ہے۔ ریحان اللہ والا صاحب نے تعلیم کے بارے میں اپنے وژن اور جدید ٹیکنالوجی، خاص طور پر مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال پر جو جامع اور قابل عمل خاکہ پیش کیا، وہ نہ صرف متاثر کن ہے بلکہ دوررس تبدیلی کا پیش خیمہ بھی ہے۔

ان کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ تعلیم صرف نصاب تک محدود نہ رہے، بلکہ بچے کی ذہنی، اخلاقی اور عملی صلاحیتوں کو اس طرح پروان چڑھائے کہ وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ معاشی طور پر بھی خود کفیل ہو سکے۔ ان کا یہ نقطہ نظر موجودہ دور کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے، جہاں روٹی روزی کے حصول کے بغیر تعلیم بے کار تصور ہوتی ہے۔ریحان اللہ والا کہتے ہیں کہ ان کا ماڈل بچے کی علمی قابلیت کے ساتھ ساتھ اس کی تخلیقی صلاحیت ،تنقیدی سوچ  اور اخلاقی اقدار پر یکساں توجہ دیتا ہے وہ جدید ٹولز  ا ور اے آئی کے ذریعے  تعلیم کو ہر بچے کی انفرادی ضروریات کے مطابق ڈھالنا اور  ہر طالب علم کو ان کی  صلاحیتوں کے عروج تک پہنچانا چاہتے ہیں وہ انہیں صرف نظریات نہیں بلکہ ایسی تجرباتی مہارت دینا چاہتے ہیں جو مارکیٹ کی ضرور بھی  ہے اور فوری روزگار کا ذریعہ بھی ۔

ریحان اللہ والا صاحب کی باتیں ایک پینٹنگ کی طرح تھیں جس میں ، مستقبل کے ایک عملی نقشے کو دیکھا جاسکتا تھا ۔ وہ نقشہ جو ہمارے بچوں کو صرف ڈگریوں کا ڈھیر بنانے کے بجائے، زندگی کے میدان میں کامیاب، خود اعتماد اور معاشی طور پر مضبوط انسان بناسکتا ہے۔

ان کی باتوں میں ایک سادہ سی طاقت نظر آئی جو تعلیم کو معیشت ترقی اورحقیقت سے جوڑتی ہے ، اور طالبعلموں کو  پڑھائی مکمل ہونے سے  پہلے ہی اپنی معاشی ذمہ داریاں اٹھانے کے قابل بنا دیتی ہے ۔ یہ خواب نہیں، ایک قابلِ عمل روڈ میپ ہے یہ محض ایک تجویز نہیں جو فائلوں میں بند ہونے کے لیے ہے۔ یہ ایک ایمرجنسی حل  ہے۔ جس طرح ہم ہنگامی حالات میں صحت یا سلامتی کے منصوبوں پر فوری عمل کرتے ہیں، بالکل اسی طرح ہمارا تعلیمی بحران، نوجوانوں کی  بے روزگاری کا طوفان ہمارے قومی وجود کے لیے ایک ہنگامی کیفیت ہے۔ تعلیمی انقلاب کی خوشبو سے مہکتی ہوئی  ان کی گفتگو بتارہی تھی کہ ان کی محنت جلد ہی ایک عظیم تحریک کی شکل اختیار کرے گی، جس سے لاکھوں بچوں اور نوجوانوں کی زندگیاں سنوریں گی۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں کم از کم  ہمیں نہ صرف ان کی ہمت افزائی کرنی چاہیے، بلکہ ان کے اس مقدس مشن میں ہر ممکن تعاون اور شرکت کا عہد بھی کرنا چاہیے۔(ریحان مصطفیٰ)۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں