ایمرا کا صحافیوں کے جاری احتجاج سے اظہارلاتعلقی۔۔

الیکٹرانک میڈیارپورٹرز ایسوسی ایشن یہ واضع کرنا چاہتی ہے کہ اس وقت پولیس کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور احتجاج سے تنظیم کا کوئی تعلق یا واسطہ نہیں ہے۔ یہ احتجاج دراصل مخصوص مفادات کی جنگ کا شاخسانہ ہے۔ایمرا پاکستان کی سب سے بڑی اور مؤثر الیکٹرانک میڈیارپورٹرز کی نمائندہ تنظیم ہے جو ہمیشہ صحافیوں کے حقوق ، فلاح و بہبود اور آزادی صحافت کے تحفظ کے لیے سیسہ پلائی دیوار بنی رہی ہے۔ ہم کسی بھی ایسے عمل کی حمایت نہیں کرتے جو صحافت کے اصولوں ، عوامی مفاد یا قانونی دائرہ کار سے متصادم ہو۔یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ جب سینئر صحافی سدھیر چودھری اور صغیر چودھری کے گھروں میں دیوار پھلانگ کر غیر متعلقہ عناصر داخل ہوئے ، تب صحافتی تنظیمیں اور پر لیس کلب کہاں تھے۔جب صحافی کالونی کی کروڑوں روپے مالیت کی اراضی پر منظم طریقے سے قبضے کیے جارہے تھے ، تب پر یس کلب کی خاموشی کیوں تھی تھی ؟۔جب ایف بلاک کے اندر ” گوالا کالونی ” کے گجروں کو ہربنس پورہ کے ایک با اثر گجر مافیا کے کہنے پر ، غیر قانونی تجاوزات کی اجازت دی گئی، تو متعلقہ ادارے کیوں متحرک نہ ہوئے۔جب روزنامه آواز ، روزنامه جنگ سے سٹاف فارغ ہوا اور روزنامہ آواز کو بند کیا گیا اس وقت احتجاج کیوں نہ ہوا تھا اور اہم بات پر لیس کلب اور اس پر بر سر اقتدار گروپ کے ساتھ پوری جر نلسٹ کیمونٹی نہیں ہے ان کے حمایت یافتہ لوگ شامل ہیں اور پاکستان کی سب سے بڑی الیکٹرانک میڈیا رپورٹرز ایسوسی ایشن ایمرا ان کے اجتجاج کا حصہ نہیں ہے۔ایمرا ان تمام معاملات میں بھی ہمیشہ آواز بلند کرتی رہی ہے، لیکن مخصوص مفادات کے حامل عناصر کی جانب سے ایمرا کو آج کے احتجاج سے جوڑنا بدنیتی پر مبنی ہے۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ الیکٹرانک میڈیارپورٹرز ایسوسی ایشن ( ایمر) کا اس وقت جاری احتجاج اور کسی بھی قسم کی محاذ آرائی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ایمرا آئندہ بھی صحافیوں کے تحفظ ، ان کے قانونی حقوق ، اور صحافتی اقدار کے لیے اپنی جد و جہد جاری رکھے گی، مگر کسی بھی ذاتی یا گروہی مفاد پر مبنی ایجنڈے کا حصہ نہیں بنے گی۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں