تحریر: امجد عثمانی۔۔
جنگ گروپ کے “روزنامہ آواز”کی ناگہانی بندش کوئی نئی بات نہیں۔۔یہ آج اور کل کی کہانی ہے۔۔جیسے آج “آواز” کی سیڑھیاں کارکن صحافیوں کے “ممنوع” ٹھہریں۔۔ گذرے کل اسی طرح “آج کل”کا دروازہ قلم مزدوروں کے لیے”مقفل” ہوا تھا۔۔آنے والے کل کی کہانی بھی “نوشتہ دیوار”ہے۔۔!!برطرفیاں اور استعفے ملازمت کا حصہ ہیں۔۔سوال ہے کہ پھر کارکن کیا کریں۔۔کسے وکیل کریں ۔۔کس سے منصفی چاہیں۔۔؟؟؟جواب ہے کہ وہ ٹیلن نیوز کے” رئوف کلاسرا کیس”سے روشنی لیں۔۔ایگریمنٹ کی روشنی میں اپنے حقوق کی جنگ کی انوکھی کہانی۔۔سیالکوٹ کے سرمایہ داروں کے سرنڈر کی شرم ناک داستان۔۔صحافتی تنظیمیں بھی اس کیس کو رول ماڈل بنا کر حقوق کی جنگ جیت سکتی ہیں کہ لڑائی کا بہترین طریقہ بھی یہی ہے۔۔”رؤف کلاسرا کیس” کا ایک سبق یہ بھی ہے کہ کارکنوں کو اپنی جنگ کے لیے خود میدان اترنا پڑتا ہے اور یہی اصل سبق ہے۔۔پھر کہیں جا کر آواز سے آواز ملتی اور “نقارہ خدا”بنتی ہے۔۔جس تن لاگے وہ تن جانے۔۔ایک دہائی پہلے ہم نے خود بھی بیروزگاری کا ایسا دھچکا بھگتا کہ رات کو نوکری کر کے گئے تو اگلی صبح میڈیا ٹائمز میڈیا گروپ سے فون آگیا کہ آپ کو روزنامہ آج کل سے ٹرمینیٹ کردیا گیا ہے۔۔اپنا لیٹر وصول کر لیجیے۔۔برطرفی کے باب میں اپنی کہانی ذرا الگ ہے اگلی نشست میں کہیں گے ۔۔بہر حال نیوز روم۔۔ ۔ رپورٹنگ ۔۔ایڈیٹوریل اور فوٹو گرافر سیکشن میں یہ پچیس تیس لوگوں کی ٹرمینیشن تھی۔۔۔سوائے چند “وعدہ معاف گواہوں” کے۔۔۔۔جو چند روز پہلے تک حقوق کی جنگ میں ہمارے ساتھ تھے اور پھر انہیں ڈمی اخبار کے ڈمی عہدوں کے بدلے خرید لیا گیا۔۔۔خیر مشکل وقت آتا ہی اس لیے ہے کہ کچھ چہروں سے نقاب اتر جائے۔۔نیک نام ایڈیٹر جناب خالد چودھری سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ لیٹرز لے لیں۔۔ہم نے لیٹرز لیے اور اسی دن ہنگامی طور پر لاہور پریس کلب میں مشاورتی اجلاس بھی رکھ لیا۔۔تب برادرم رائے حسنین طاہر پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے صدر تھے۔۔تب یونین بھی ایک ہی تھے۔۔ہم لوگ دفتر سے سیدھے پریس کلب پہنچے۔۔ہماری گاڑی میں ایک روشن خیال”دانشور”بھی تھے جن کی شاید اس اخبار میں پہلی نوکری تھی۔۔ہولی ڈے ان ہوٹل کے پاس بہک گئے۔۔گھبرا کر کہنے لگے میں ایک دوست کو مل کر آتا ہوں۔۔ ۔ پھر وہ شام تو کیا کئی صبح شام بیت گئے لیکن وہ نہ آئے۔۔ان کو دیکھنے کو آنکھیں ترس گئیں۔۔یہ لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں خوشامدیے اور بزدل۔۔ ۔جناب رائے حسنین طاہر کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ ہو گیا کہ اگلے دن سہ پہر کو مال روڈ پر مظاہرہ ہوگا۔۔جوں ہی مظاہرے کا اعلان ہوا ایک اور “نیم دانشور خوشامدیہ” نا جانے کیوں سرگرم ہو گیا۔۔وہی خوشامدیہ جس نے شملہ پہاڑی اجلاس کے دوران خالد چودھری کو فون پر نوید سنائی کہ “آج کل کلر ایڈیشن” بند ہونے سے ملتان میں کہرام کا عالم ہےاور قارئین نے اخبار پر چار حرف بھیج دیے ہیں۔۔کسی نے چودھری صاحب کی خوش فہمی یہ کہہ کر ختم کردی کہ عالی جاہ ملتان میں تو ایک مہینے سے اخبار جا ہی نہیں رہا تو کون سا ایڈیشن اور کون سی سرکولیشن؟ ؟ مظاہرے کا اعلان ہوتے ہی یہ خوشامدیہ میرے پیچھے لگ گیا کہ آپ سے ملنا ہے۔۔آپ کے نام چودھری صاحب کا پیغام ہے۔۔خیر ہم رات دس گیارہ بجے مال روڈ پر واقع “ایٹ اینڈ سپ” پر ملے۔۔میں نے کہا فرمایے۔۔کہنے لگا کہ چودھری صاحب کہتے ہیں کل کا مظاہرہ ملتوی کردیں۔۔ ۔میں نے کہا مظاہرہ چودھری صاحب کی مشاورت سے طے ہوا۔۔۔پنجاب یونین آف جرنلسٹس نے پریس ریلیز جاری کردی۔۔اب یہ ناممکن ہے۔۔خیر اگلے دن مظاہرہ ہوا اور ڈنکے کی چوٹ ہوا۔۔خوشامدیہ کہیں نظر نہ آیا کہ ایسے لوگ بحران میں بھاگ جایا کرتے ہیں۔۔اس مظاہرے کا فائدہ یہ ہوا کہ انتظامیہ پر دبائو بڑھا اور ایک دو مہینے میں ہمارے لوگوں کے لاکھوں واجبات مل گئے۔۔یہاں ایک اور دل چسپ واقعہ یاد آگیا کہ جب ہم نے کیولری گرائونڈ میں شہر یار تاثیر کے ساتھ مذاکرات کے لیے ان کے گھر کی دہلیز پر قدم رکھا تو ایک بھائی لوگ ٹائپ یونین رہنما ڈگمگائے کہ آج گرفتاری بھی ہو سکتی ہے۔۔میں نے کہا قبلہ اب آگے بڑھیں جو ہوگا دیکھا جائے گا۔۔خیر وہ خوش گوار مذکرات تھے جس کے بعد ہمارے لوگوں کو چیک مل گئے۔۔ہماری جہدوجہد کی کامیابی پر خوشامدیوں نے نئی کہانی گھڑی اور چودھری صاحب کے کان بھرے کہ آپ کے بغیر مذکرات کیوں؟؟انہیں کیا خبر کہ چودھری صاحب کے ساتھ کو اعتماد کا رشتہ تھا؟؟؟ادھر ہم نے بھی ایک واردات ڈالی۔۔ جب چیک ملے تو سب سے پہلے خوشامدیوں کو فون گئے اور انہوں نے ہنسی خوشی اپنے چیک لےگئے اور میں نے چودھری صاحب کو فون پر بتایا کہ سر فلاں فلاں صاحب پیسے لے گئے ہیں۔۔پھر وہ وقت بھی آیا کہ چودھری صاحب کے جنازے پر میں نے ایک ایک صف پر نظر دوڑائی۔۔یار لوگوں سے پوچھا لیکن خوشامدیے کہیں نہ دکھائی نہ دیے۔۔خوشامدیے ایسے ہی ہوتے ہیں۔۔جنازہ بھی نہیں پڑتے۔۔!!بہر حال یہ ایک آپ بیتی تھی جو کارکن صحافیوں کے لیے لکھ ڈالی کہ کسی کو بھی کسی وقت بھی فون آسکتا ہے کہ اپنا ٹرمی نیشن لیٹر وصول کر لیجیے۔۔خدا نخواستہ جب کبھی ایسا بحران دستک دیدے تو گھبرائیں مت۔۔ مناسب سمجھیں تو اس تلخ تجربے سے روشنی لے لیں۔۔اپنے دائیں بائیں دیکھتے پھونک پھونک قدم رکھیں اور ایک آواز ہو کر آگے بڑھیں۔۔۔کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔۔(امجد عثمانی)
