peca ke khilaaf ki samaat wafaq ko mazeed 2 haftay ki mohlat

اسلام آباد ہائیکورٹ کا پیکا ایکٹ کی فوری معطلی سے انکار۔۔۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیکا ایکٹ میں حالیہ ترمیم کے خلاف دائر صحافتی تنظیموں کی درخواستوں پر ابتدائی سماعت کرتے ہوئے قانون کو فوری طور پر معطل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین منھاس نے اسلام آباد ہائیکورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے وکیل سمیع الدین ایڈووکیٹ کے دلائل سننے کے بعد کیس کی مزید سماعت کے لیے 6 مارچ کی تاریخ مقرر کر دی۔سماعت کے دوران جسٹس راجہ انعام امین منھاس نے ریمارکس دیے کہ کسی بھی قانون سازی کے خلاف فوری طور پر ایکٹ کو معطل نہیں کیا جا سکتا اور اس حوالے سے عدالت کو تفصیلی دلائل اور قانونی نکات کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ عبوری ریلیف دینے سے قبل قانونی تقاضے پورے کرنا ضروری ہیں۔درخواست گزار صحافتی تنظیموں کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ پیکا ایکٹ میں کی گئی ترامیم آزادیٔ اظہار، آزادیٔ صحافت اور آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کے منافی ہیں۔ وکیل سمیع الدین ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ترمیمی قانون کے تحت صحافیوں اور ڈیجیٹل میڈیا پر غیر ضروری قدغنیں لگائی جا رہی ہیں، جس سے آزاد صحافت کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔دوسری جانب عدالت نے قرار دیا کہ قانون کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ تفصیلی سماعت کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے، جبکہ فوری معطلی ایک غیر معمولی قدم ہوتا ہے۔واضح رہے کہ پیکا ایکٹ میں ترمیم کے خلاف مختلف صحافتی تنظیموں اور میڈیا نمائندہ اداروں نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا ہے اور اس قانون کو آزادیٔ صحافت پر حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ صحافتی برادری کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ متنازع ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔عدالت نے فریقین کو ہدایت کی ہے کہ آئندہ سماعت پر مزید دلائل کے لیے تیار ہوں۔پیکا قانون کی سماعت کے موقع پر عدالت میں  سینئر وکلاء عمران شفیق ایڈووکیٹ، سمیع الدین ایڈووکیٹ، ریاست علی آزاد ایڈووکیٹ، صدر راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس آصف بشیر چوہدری، جنرل سیکرٹری راجہ بشیر عثمانی، صدر ہائی کورٹ رپورٹرز ایسوسی ایشن حسین احمد چوہدری، اویس یوسفزئی، احتشام کیانی اور فیصل محمود عباسی بھی موجود تھے۔۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں