arshad sharif ke qatil pakistan mein hein

ارشدشریف شہید کا یوٹیوب چینل دوبارہ فعال۔۔

قتل کیے گئے پاکستانی صحافی ارشد شریف کے یوٹیوب چینل کو اُن کے خاندان نے اُن کے دیرینہ ساتھی اور سابق ایگزیکٹو پروڈیوسر عدیل راجا کی معاونت سے دوبارہ فعال کر دیا ہے۔ارشد شریف آفیشیل نامی اس چینل کے تقریباً 4 لاکھ 49 ہزار سبسکرائبرز ہیں اور یہ چینل 2022 میں ارشد شریف کے قتل کے بعد سے بڑی حد تک غیر فعال تھا۔چینل پر جاری ایک ویڈیو میں عدیل راجا نے بتایا کہ چینل کو دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ ارشد شریف کے بیٹے علی ارشد شریف اور دیگر اہلِ خانہ کی بار بار درخواستوں کے بعد کیا گیا، جنہیں ان کی وفات کے بعد یہ چینل وراثت میں ملا تھا۔ اُن کے مطابق خاندان چاہتا تھا کہ ارشد شریف کی ڈیجیٹل موجودگی کو زندہ رکھا جائے تاکہ اُن کی زندگی اور کام کو یاد رکھنے کے لیے ایک جگہ موجود رہے۔راجا نے کہا کہ اگرچہ چینل کو جاری رکھنے پر بات چیت تقریباً تین سال پہلے شروع ہو گئی تھی، مگر عملی اور اخلاقی خدشات کے باعث فیصلہ مؤخر ہوتا رہا۔ اُن کے بقول نہ وہ خود اور نہ ہی ارشد شریف کی سابق ٹیم کے دیگر ارکان یہ تاثر دینا چاہتے تھے کہ وہ کسی کی جگہ لے رہے ہیں یا چینل کے ذریعے ذاتی خواہشات کو نمایاں کر رہے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ بحال کیا گیا چینل بطور نیوز آؤٹ لیٹ کام نہیں کرے گا۔ اس کے بجائے اس میں ارشد شریف کی شخصیت، اُن کی پیشہ ورانہ زندگی کی یادیں اور بطور صحافی اُن کے سفر کے کم معروف پہلوؤں پر توجہ دی جائے گی۔ راجا کے مطابق وہ اور دیگر سابق ساتھی ہفتے میں ایک یا دو بار نظر آئیں گے، جبکہ چینل کا انتظام ارشد شریف کے بیٹے سنبھالیں گے۔راجا نے ارشد شریف کی سابق پروڈکشن ٹیم کے دیگر ارکان کا بھی ذکر کیا، جن میں علی عثمان شامل ہیں، جنہوں نے ارشد شریف کے کئی پروگرامز پروڈیوس اور ایڈٹ کیے۔ انہوں نے بتایا کہ خود انہیں ارشد شریف کی روانگی کے بعد اے آر وائی نیوز سے برطرف کر دیا گیا تھا، جس کے بعد انہوں نے اپنا یوٹیوب چینل شروع کیا۔ان کے مطابق اس بحال شدہ سیریز کا مقصد پردے کے پیچھے کی کہانیاں شیئر کرنا ہے—یہ بتانا کہ ارشد شریف کس طرح کام کرتے تھے، وہ کون سے فیصلے کرتے تھے اور اُن کے صحافتی اصول کیا تھے۔ راجا نے کہا کہ یہ سلسلہ ہفتہ وار بنیادوں پر اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک خاندان اسے برقرار رکھنا چاہے۔ارشد شریف پاکستان کے نمایاں ترین ٹیلی ویژن صحافیوں میں سے ایک تھے اور اے آر وائی نیوز کے کرنٹ افیئرز پروگرام پاور پلے کی میزبانی کرتے تھے۔ اگست 2022 میں انہوں نے اپنی رپورٹنگ کے باعث لاحق خطرات اور متعدد بغاوت کے مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان چھوڑ دیا۔ وہ پہلے متحدہ عرب امارات گئے اور بعد ازاں کینیا منتقل ہو گئے۔اکتوبر 2022 کو نیروبی کے مضافات میں مگادی روڈ کے قریب کینیا کی پولیس نے انہیں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ کینیائی حکام کا کہنا تھا کہ جس گاڑی میں وہ سفر کر رہے تھے وہ پولیس چیک پوسٹ پر نہ رکنے کے باعث فائرنگ کا نشانہ بنی اور اسے غلط شناخت کا واقعہ قرار دیا گیا۔ تاہم ارشد شریف کے خاندان، پاکستانی صحافیوں اور عالمی تنظیموں نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے شفاف اور آزاد تحقیقات کا مطالبہ کیا۔جولائی 2024 میں کینیا کی کاجیادو ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا کہ ارشد شریف کا قتل “غیر قانونی، من مانی اور غیر آئینی” تھا۔ عدالت نے کینیائی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ ارشد شریف کے خاندان کو 1 کروڑ کینیائی شلنگ (تقریباً 78 ہزار امریکی ڈالر) بطور معاوضہ ادا کرے اور ذمہ داروں کے خلاف تحقیقات مکمل کر کے مقدمات چلائے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں