waqar zaka and iqrar ul Hassan Exposed 1,590

کراچی میں ریکارڈنگ، بہانہ برما کا۔۔نئی کہانی سامنے

میانمار میں حکومتی سرپرستی میں روہنگیا مسلمانوں کی بدترین نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے جبکہ ہمارے بعض اینکرز اس بات پر الجھ رہے ہیں کہ ان میں سے کس نے روہنگیا مسلمانوں کی زیادہ یا عملی مدد کی اور کون کراچی میں بیٹھ کر ہی ٹی وی چینل کیلئے ریکارڈنگ کرتا رہا۔، وقار ذکا اور اقرار الحسن میں سوشل میڈیا پر یہ بحث چل رہی ہے کہ کس نے روہنگیا مسلمانوں کی عملی مدد کی۔ یہ سارا معاملہ اقرار الحسن کے ایک فین کے ٹویٹ سے شروع ہوا جس نے اینکر پرسن کی توجہ دلائی کہ وقار ذکا انہیں برا بھلا کہہ رہا ہے جس پر اقرار الحسن نے اپنے مداح سے کہا کہ وہ وقار ذکا کی عزت کرتے ہیں اس لیے کوئی جواب نہیں دیں گے، جو بھی ہے وقار ذکا ان کے سینئر ہیں ۔۔اقرار الحسن کے یہ بات کہنے کی دیر تھی کہ وقار ذکا بھی فوری طور پر میدان میں آگئے اور کہا کہ اقرارالحسن نے انہیں سمجھنے میں غلطی کی ہے، وہ اقرار الحسن کو اپنی پیروی پر سراہتے ہیں لیکن ساتھ ہی درخواست بھی کرتے ہیں کہ وہ صرف رپورٹنگ کرنے کی بجائے روہنگیا مسلمانوں کی عملی مدد کریں۔وقار ذکا کے اس ٹویٹ کے بعد دونوں ہی اپنی اپنی صفائیاں پیش کرتے اور دبے الفاظ میں ایک دوسرے پر کیچڑ بھی اچھالنے کی کوشش کرتے رہے ۔ اس بحث کے دوران وقار ذکا نے تو یہ تک بھی کہہ دیا کہ اقرار الحسن کبھی برما گئے ہی نہیں بلکہ کراچی میں ہی بیٹھ کر اپنے پروگرام کی ریکارڈنگ کر ر ہے ہیں۔ یہ بحث اس وقت اختتام پذیر ہوئی جب وقار ذکا نے کہا کہ مل کر معاملات حل کریں گے۔

Facebook Comments

اپنی رائے کا اظہار کریں

کراچی میں ریکارڈنگ، بہانہ برما کا۔۔نئی کہانی سامنے” ایک تبصرہ

  1. ڈاکٹر صاحب فی الوقت اراکان جانے کا راستہ صرف اور صرف بنگلہ دیش سے ہے، اور بنگلہ دیشی سفارتخانے کسی بھی پاکستانی کو ویزہ جاری نہیں کررہے، جمعیت علماء اسلام کے طلحہ صاحب ڈپلومیٹک پاسپورٹ پر بنگلہ دیش میں داخل ہو سکے، ان کے علاوہ شکور صاحب امریکی پاسپورٹ پر بنگلہ دیش میں داخل ہوئے، اور برما کے سابق دارالحکومت رنگون سے تو اراکان جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،حتیٰ کے رنگون میں جو مسلمان ہیں جن کے پاس برمی پاسپورٹ ہے وہ بھی اراکان جانے سے قاصر ہیں، البتہ رنگون کے بودہسٹ باآسانی جب چاہے اراکان آ جا سکتے ہیں ان کے اوپر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے، اسی طرح اراکان کے مظلوم مسلمان بھائیوں کو رنگون جانے کی پابندی ہے،لیکن اراکان کے بودہسٹ دہشتگرد جب چاہے رنگون جاسکتے ہیں_____ لہذا وقار اور اقرار کی رام لیلیٰ اپنی سمجھ سے بالاتر ہے،،

    اچھا میں زرا سلیمانی پان کی پِیک مار کے ابھی آیا____،،

اپنا تبصرہ بھیجیں