Use Me Zainab By Ali Jibran 87

“مجھے استعمال کریں” ، زینب

“USE ME”

تحریر : علی جبران

زینب۔۔۔۔

ایک مقدس نام، نام میں حرمت، بے حرمتی تو ہماری قوم کو برداشت ہی نہیں ہے! بے حرمتی کا نام سنتے ہی جلاو گھیراو احتجاج اور ریلیاں ہی دیکھنے اور سننے کو ملتی ہیں۔۔۔!

یہی سب تو زینب کی بے حرمتی پر ہو رہا ہے۔۔۔

کوئی چینل پورا فائدہ اٹھا رہا ہے اس واقعے کا تو کوئی سیاسی جماعت اگلے الیکشن کے لئے اپنے مخالفین کی برائیوں کی فائل میں ایک اور کیس پیوست کر رہا ہے۔۔۔

مگر زینب ابھی بھی کچرے کے اس ڈھیر پر پڑی ہے۔۔۔۔

کروڑوں انسان زینب سے ہمدردی کر رہے ہیں، جنازے کی تصاویر شیئر کر کے غیرت جگا رہے ہیں، دوسری جانب اینکر وزیر قانون پنجاب سے پوچھ رہی ہے کہ صرف ایک مجرم کا نام بتائیں “چائلڈ ایبیوز” کے کیس کا جس میں مجرم کو سزا دی گئی ہو! صرف ایک!

وزیر قانون اپنی باتوں کو گول مول کر کے صرف ابتدائی تحقیقات کے اردگرد ہی رہتا ہے، لائن کاٹنے کے بعد وزیر صاحب پارٹی کے صدر سے داد وصول کرتے ہیں، تو دوسری طرف چینل کا مالک پالیسی کے مطابق کام کرنے پر ٹیم اور اینکر کو “تھمز اپ” کرتا ہے اور وزیر کی چھترول والی کلپ حسب اختلاف کو بھیج دیتا ہے۔۔۔

وزیر ، سیاسی پارٹی لاش کے ایک طرف اور حسب اختلاف ، اینکر اور چینل مالکان لاش کے دوسری جانب کھڑے ہیں ۔ درمیان میں کچرے میں پڑی زیب کی لاش ہے اور دونوں جانب سے قہقہہ لگائے جا رہے ہیں۔۔۔ پارٹی صدر، وزیر کا اور مالک اپنی ٹیم کا کاندھا تھپتھپا رہا ہے۔۔۔۔

“یہ کام کیا ہے میرے شیر نے آج، تیری سیٹ پکی!” ، پارٹی صدر

“آج ریٹنگ نے سب کے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں، تم سب کا انکریمنٹ پکا!” چینل مالک

زینب اٹھتی ہے، آسمان سے پریاں اور اس کی فیورٹ ڈال اسے لینے کچھ زینب جیسے بچوں کے ساتھ آتے ہیں اور اسے اپنی جنت میں لے جاتے ہیں جہاں اب انھیں دنیا جیسی تکلیف کبھی نہیں ہوگی۔۔۔۔

ابھی عوام، وزیر صاحب ، صدر صاحب،چینل مالکان، اینکرز

وقفے پر گئے ہی تھے کہ موٹر سائیکل پر سوار “نامعلوم افراد” اسی کچرے کنڈی پر ایک اور لاش پھینک گئے۔۔۔۔

بال بکھرے ہیں، ننھے ہاتھ اور پاوں نیلے پڑ چکے ہیں ان پر رسی کے نشان بھی ہیں۔۔۔۔ رپورٹر کچرا کنڈی پہنچتا ہے اور رپورٹ کرتاہے ” یہ وہی جگہ ہے جہاں سے زینب کی لاش ملی تھی ، آج ہم آپ کو ایک اور لاش دکھا رہے ہیں۔۔۔۔”

سب کی نظر لاش کے چہرے پر جاتی ہے ، اس لاش کی منہ پر کپڑا لپٹا ہوا ہے۔۔۔ جس پر لکھا ہے “Use Me” …

یہ پیغام پڑھتے ہی لاش کے گرد جمع چینل مالکان، اینکر، وزیر، صدر، عوام سب ہی کہ چہروں پر ایک معنی خیز مسکراہٹ آتی ہے!

وزیر کے موبائل کی گھنٹی بجتی ہے، لاش پر کھڑی اینکر فون کی دوسری جانب وزیر پر سوال داغنا شروع کردیتی ہے۔۔۔ عوام جیب سے موبائل نکال کر لاش کی تصویر کھیچ کر سوشل میڈیا پر تصویر کے ساتھ لکھنا شروع کرتی ہے کہ #JusticeFor___________

#Justice4Zainab #justiceforzainab

~ علی جبران

Imran Junior BLOG

Facebook Comments

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں