Qalam key Mazdooron ki Ujrat kia Marne k Baad Dogy By Sakhawat Khan Sadozai 45

قلم کے مزدوروں کی اجرت کیا مرنے کے بعد دو گے؟

تحریر:سخاوت خان سدوزئی جموں کشمیر

جیو نیوز اسلام آباد بیورو اورکیپٹل ٹی وی کے کارکنان کی تنخواہیں دوماہ سے لیٹ ہیں.جو تاحال انھیں نہ مل سکیں۔۔جس طرح اینکرز پرسن سکرین پر جلوہ افروز ہوتے ہیں تو ان کے پیچھے ان افراد کی کوششیں ہوتی ہیں جو اپنا پیٹ کاٹ کے ان کی ہر سرخی پاوڈر مکمل کرتے ہیں.ان کے بھی بچے ہیں. ان کو بھی گھر کا کرایہ ادا کرنا پڑتاہے.یہ بجلی کا بل بھی ادا کرتے ہیں اور گیس بھی خرید کر گزر اوقات بسر کرتے ہیں.وقت پر ان کارکنان کی تنخواہیں نہ ملنا افسوس ناک ہے.۔۔بلاشبہ جیو نیوز نمبر ون ادارہ آج بھی مانا جاتا ہے.جس کےپیچھے ان تمام کارکنان کی محنت ہے جو اسے نمبر ون بنانے کی کوشش کرتے ہیں،ان میں ڈیسک سے وابستہ اسائنمنٹ ایڈیٹر سے لیکر کیمرہ مین،این ایل ای،رپورٹر تک تندہی سے ہی اسے ممکن بناتے ہیں. اس ادارے کی تنخواہیں نہ ملنا تو سعودی عرب میں کشمیریوں اور پاکستانیوں کی طرح جو کفیل کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں کی مانند ہے.پھر کفیل پر منحصر ہے کہ کب انھیں تنخواہ اداکرنے کا حکم صادر کرے۔جیو جنگ گروپ کا کفیل مزے سے دوبئی میں فرحت کی زندگی تو بسر کررہا ہے .جس کےزیر کفالت وہ کارکنان جو اسے اپنی خدمات دے رہے ہیں.ان کی تنخواہیں وقت بھی نہیں ملتیں.براہ کرم کفیل صاحب ان محنت کشوں پر رحم کھائیے اور انھیں اینکرز کی طرح بروقت تنخواہیں ادا کرنے کا حکم صادر کیجیے .

بعینہ کیپٹل ٹی وی کے اسٹاف کی تنخواہیں بھی نہیں مل سکیں.جو کہ المیہ ہے، صحافتی تنظیموں کی چشم پوشی اور بے اعتناعی بھی قابل صد افسوس ہے.صحافتی تنظیم کے ایک بڑے صاحب کو ایک کیمرہ مین کی عرضی سنتے چشم پوشی دیکھی تو اسی دن سوچا ہم اپنے قلم کو ذرا جنبش دے ہی ڈالیں وہ صاحب کہیں پڑھ سکیں تو یاد آئے گا.۔۔بحثیت صحافتی کارکن میری جیو جنگ گروپ اور کیپٹل ٹی وی سمیت جملہ اخبارات کے مالکان سے گزارش ہے اپنے کارکنان کی تنخواہیں بروقت ادا کریں.جب آپ کا کارکن ذہنی طور پر مطمئن ہے آپ کو نمبر ون بنا کر رکھتا ہے.یاد رکھیے جب کارکن ذہنی انتشار کاشکار ہے جس کا مالک مکان سرپہ کھڑا ہے۔گیس کا بل بقایا ہے۔اسکول کے بچوں کی فیسیں لیٹ ہیں،بجلی کا بل بقایا ہونے کی وجہ سے اندھیرے میں سونے پر مجبور ہے.تو آپ کے کام میں بھی اس کے مستعد ہونے کے کوئی امکانات نہیں۔۔

کچھ روز قبل بول ٹی وی سے وابستہ لاہور کےایک کیمرہ مین سعیدچودھری کے واجبات اس کی حسرت ناتمام دل میں لیے دنیا سے جانے کے بعد ادا کیے گئے جو برین ہیمرج کا شکار اسی ٹینشن کا ہوکر چل بسا.اگر مالکان غور کریں ایک دن خدا کی طرف آپ کو بھی لوٹنا ہے.اگر اسکی زندگی میں واجبات ادا کردیے جاتے تو شاید آج اس کے بچوں کویتیمی کا نام نہ ملتا.ذرا آنکھیں بند کرکے سوچئے آپ مالک نہیں ایک کیمرہ مین ہیں.آپ کی زندگی کس طرح گزر رہی ہے.تو اندازہ ہوگا کہ ایک کیمرہ مین کس کسمپرسی کی زندگی گزارتا ہے.۔

سترہ ماہ تک وہ محنت کش جو بول بول کرتے ایک بڑی جنگ جیت گئے تو بول کی انتظامیہ نے انھیں گول کردیا۔۔اب اگر آپ چھابڑی والے سے بھی پوچھیں گے تو وہ بھی خودکو بول کا رپورٹر بتائے گا.پروفیشنلی آپ بخوبی اندازہ کرسکتے ہیں.ریڈیو میں جھاڑو دینے والے بھی بول کا کوٹ پہنے ہواؤں میں اڑ رہے ہیں.دوسری جانب کئی اصل  بول والاز واجبات کی ادائیگی کے لیےصدائیں لگا رہے ہیں.کیا بول انتظامیہ اور صحافتی تنظمیں ان کے مرنے کے بعد وہ واجبات ادا کرنے کی ٹھان چکے ہیں? سعید چودھری  کی طرح جو دنیا کو چھوڑے گا تبھی گیم شو ایسا ہی چلے گا.

انتظامیہ پہ ان محنت کشوں کا قرض ہے.واجبات کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنائیں جو کنڈلی مارے ابن الوقت بیٹھے ہیں.خدا کو کیا منہ دکھائیں گے۔۔لالہ آخر موت اے.چاپلوسی اور ابن الوقتی کا اختتام ہونا ہے،سکندر جب دنیا سے گیا ہاتھ خالی تھے.بلاشبہ انسان تجربہ کے مراحل سے گزرے نہ یقین نہیں آتا ۔۔بات میری تو کڑوی ہے مگر سچ کے پیالے میں ہے.یہ گھونٹ وہی پی سکیں گےجن کے اندر غیرت کامادہ ہے.۔۔بحثیت کارکن صحافی ہم اپنے کارکن دوستوں پرجو کسی بھی اخبار کے ہوں یاچینل کے ان پہ ڈھائےجانیوالے ظلم وبربریت پر آواز اٹھاتے رہیں گے.جو ہم نے ماضی میں بھی بغیر کسی مفاد کے اٹھائی. چاپلوسی اور جوتا پالشی ہمیں گوارا نہیں.سچی اور کھری بات لکھنے اور بولنے میں عجلت نہیں رکھتے ۔۔(سخاوت خان سدوزئی)
Imran Junior BLOG

Facebook Comments

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں