Qalam Aur Zaban kay Ghazi By Sana Hashmi 140

قلم اور زبان کے غازی

تحریر: ثناءہاشمی

میڈیا کے لئے ہر خبر کی اہمیت ہوتی ہے اس بات سے تو کسی کو انکار نہیں ہوگا ،،، لیکن نیوز روم میں کام کرنے والے ہمارے ساتھی یہ جانتے ہیں کہ وہ کتنی ذمہ داری سے یہ کام نبھاتے ہیں،، غلیل کو ٹینک اور ٹینک کو ایک پٹاخہ بنانے کی اہلیت بھی قلم اورزبان کے غازیوں کے ہاتھ میں۔۔ایک منظر آپکے سامنے لانا چاھتی ہوں غو ر کیجئے گا،، نیوز روم میں سینٹرل ڈیسک کاپی اور کوارڈینیشن کی اہمیت کیا ہے یہ ہمارے میڈیا کے ساتھی جانتے ہیں ،، ویسے تو پورے نیوز روم کا منظر پیش کرسکتی ہوں لیکن فی الحال اتنا ہی تحریر کر رہی ہوں جتنی ضرورت ہے ،، اسی نیوز روم کا حصہ ہوتا ہے ،، او ایس آر ڈیسک ،، آوٹ سورس رپورٹنگ،،اس ڈیسک پر کام سینٹرل ڈیسک کی طرح ہی ہوتا ہے ،، لیکن اس کا حال اس یتیم کی مانند ہوتا ہے جسکا باپ ہر کوئی بننا چاہتا ہے لیکن بچہ پروان ہی نہیں چڑھ رہا ہوتا ہے اور بلاآخر اس یتیم کو کسی اور کے سپرد کردیا جاتا ہے ،، میں نیوز روم کے بلعوم رویہ کی منظر کشی کر رہی ہو ں آپکا اختلاف ہوسکتا ہے ،،

او ایس آر کی ڈیسک پر ٹیلی فون بج رہا ہو اور نیوز روم کا کوئی بھی شخص اگر وہ فون اٹھا لے تو ایسے ایسے منہ بناتا ہے جیسے قرض دار کا فون ہے ،، اور ایک آواز سماعت سے ٹکراتی ہے کہ بڑے فارغ لوگ ہیں یہ انٹیریر کے ،، ہر خبر کے لئے فون کرتے ہیں،،، میں اس میں سب کو نہیں گھسیٹ رہی لیکن اپنا مدعا بیان کرنے کے لئے جن حالات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اس کو پیش کرنا ضروری ہے ،،، یہ کسی ایک نیوز روم کا حال نہیں ہے کم یا زیادہ صورتحال کم و بیش اس جیسی ہی ہے،،، یہ آوٹ سورس رپورٹر اگر پنجاب، سندھ، بلوچستان، یا خیبرپختوانخوہ کے کسی علاقے کی کوئی خبر بھیجتے ہیں تو سینٹرل ڈیسک یہ کہہ کر خبر کو سائیڈپر رکھوادیتی ہے کہ بھائی مین نیوز میں ان چھوٹے علاقوں کی خبر کی جگہ نہیں بن رہی،، اور یوں پھر 10 دن پرانی زینب کے لاپتہ ہونے کی خبر دب جاتی ہے،، او ایس آر میں کام کرنے والی ڈیسک اپنے نمائندوں کو توجیحات دیتی رہ جاتی ہے اور یونہی کام چلتا رہتا ہے اس سب میں یہ بھی دھیان میں رہے کہ جب نیوز روم کے کرتا دھرتا چاھتے ہیں تو گجرانولہ کا ناشتہ،،ملتان کےحلووںکا پیکج ،،یا کسی کھلاڑی کے گھر کے باہرسے بھی نیوز کا پیٹ بھرا جاتا ہے،،،

زینب کی موت پرپاکستان کے میڈیا نے ایک مرتبہ پھر اپنا بھرپورکردار ادا کیا،، لیکن دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں ،، کس کس نے 10روز پہلے زینب کی گمشدگی کی خبر پر بین کیا تھا ،، یہاں قادری کے دھرنے اور،، عمران کی شادی ،،اورپیرنیو ں کے قصوں،، سے کسےفرصت ہے جو کسی کی گمشدگی کی خبر چلائے ،، مانگ رہے زینب کے لئے انصاف بچھا رہے ہیں لفظوں کا جال،، کس کتاب میں لکھا ہے کہ موت کا بین سیڈ میوزک کے بغیر نامکمل ہے ،،،کون سا جرنلزم سکھاتا ہے کہ اسکرین پر معصوم بچی کی ماں کا کردار ادا کیا جائے ،،،شرم نہیں آئی اس میڈیا کو جس نے اسلام آباد ائیرپورٹ پر زینب کے ،، بے بس اور مجبور ماں باپ سے کہا ۔۔کچھ کہہ دیں ،، باپ نے ناجانے کیا سوچا اور بولنا شروع کردیا،، اس وقت ادراک ہو کہ باپ طاہر القادری کے نام لیواؤں میں سے ہیں پھر سمجھ آیا کہ طاہر القادری نے زینب کا جنازہ کیوں پڑھایا ،، ماں بات کرنے سے قاصر تھی ،، اور ان سے کہا جا رہا تھا کچھ تو بولیں،،، واہ کیا حرمت ہے جرنلزم کی ،،،سونے پہ سہاگہ،، زبردستی کی میڈیا ٹاک کے اختتام پر ہمارے کسی صحافی بھائی نے کہا ،،ارے ان سے موبائل نمبر لے لو ،، ،، مطلب ،، سب سے پہلے سب سے آگے،، سنسنی نہیں صرف خبر،، ہر پل کی خبر،، اور جتنے ہمارے ٹی وی چینلز ہیں ان سب کے سلوگن یاد آئے ،،، سیاست دان دونوں آستینیں چڑھائے بیٹھے ہیں لیکن مجھے شکایت ان سے ہے جو خبر پر اپنے قلم اور اپنے نام نہاد جرنلزم کی چھریاں تیز کر رہے ہیں،، ٹیلی ویژن کی اسکرین پر اٹھایا جانے والا طوفا ن ،،ان اذہان کی ترجمانی کررہا ہے جو ریٹنگ کے نشے میں چور ،، کل صبح سیاستدانوں کے غول کے غول زینب کے گھر جاکر ناجانے انکے والدین سے کیا کہیں گے ،، اور وہ بےچارے اپنی بیٹی کی تدفین کے بعد اپنی دنیا گنوا کر دونوں ہاتھوں سے ان آنے والے سے کیسے ہاتھ ملائیں گے،، سیاست کا جوبن چڑھے گا،،

صحافت کا ایک رخ انگڑائی لے گااور آئندہ کے لائحہ عمل پر سوالات کی بوچھاڑ کے سے جلوہ افراز ہوگا اور کل سہ پہرتین بجے کے نیوز بلیٹن کی پہلی ہیڈلائن زینب کی موت نہیں رہے گی ،،مجھے یقین ہے کہ نواحی علاقوں سے آنے والی خبر کی اہمیت وہی رہے گی جو ہمیشہ سے ہے ،،، معاف کرنا زینب میرے ہاتھ اور ذہن آپکا مقروض ہے ،، میں باحیثیت معاشرہ تمھاری مجرم ہو زینب اور اس معاشرے کی چوتھے ستون کا حصہ ہونے کی معافی الگ سے چاھتی ہوں !!!!مجھے معاف کردو!

(ثناہاشمی)

Imran Junior BLOG

Facebook Comments

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں