153

پلان نمبر 3 کیا، کون کون صحافی متاثر ہوگا۔۔؟؟

تحریر: منصور آفاق

میرے ایک دوست کا خیال ہے وہ لوگ جو اسٹیبلشمنٹ کے خلاف سڑکوں پر چوراہوں پر پھول بکھیرتے پھرتے ہیں ان کے خلاف کارروائی ضرور ہو گی ’’فرشتوں ‘‘نے آسمانوں پر بیٹھ کر پلان نمبر تین فائنل کرلیا ہے اور وہ لوگ بھی ملک چھوڑنے کے لئے تیار بیٹھے ہوئے ہیں اس فہرست میں بڑے بڑے نام موجود تھے۔ عطاءالحق قاسمی کا نام بھی فہرست سے نکالا نہیں گیا حالانکہ وزارت اطلاعات و نشریات کے خلاف کالم لکھنے والے اور مستعفی ہونے والے عطاء الحق قاسمی گزشتہ روز نواز شریف کے ساتھ لنچ کرنے گئے ہوئے تھے ۔اس لنچ میں مریم نواز شریف بھی موجود تھیں پرویز رشید بھی تھا مگر مریم اورنگزیب تھی وہ جسے ہونا چاہئے تھا وہ نہیں تھی۔

نون لیگ کے سوشل میڈیا اور غیر سوشل میڈیا دونوں کے لئے ان دنوں کچھ اچھی خبریں نہیں گردش کر رہیں۔جو کچھ احمد نورانی کے ساتھ ہوا تھا ویسا ہی کچھ اس کے کچھ اور دوستوں کے ساتھ بھی ہونے جا رہا ہے ۔دوسری طرف عطاءالحق قاسمی کے لنچ کے بعد ابصار عالم اپنے ڈنر کے انتظار میں بے چینی کے ساتھ جاتی امرا کے فٹ پاتھ پر چل رہا ہے ابھی ابھی یہ جو کچھ طلحہ صدیقی کے ساتھ ہوا ہے یہ سب کے ساتھ ہوسکتا ہے ۔’’عامر میر ‘‘ کے نام کے ارد گرد بھی سرخ دائرہ لگا دیا گیا ہے اس کے علاوہ وہ تمام صحافی جون لیگ کی کچن کیبنٹ میں شامل ہیں انہیں پرائیویٹ گارڈز کی اشد ضرورت ہے کیونکہ سرکاری بقول عامر بن علی، حسن اور حکومت سے کون جیت سکتا ہے یہ بتائو دونوں کی عمر کتنی ہے۔

ن لیگ کی خبررساں ایجنسیوں نے ابھی ابھی اطلاع دی ہے کہ قصور کے واقعات میں ڈاکٹر طاہر القادری ملوث ہیں وہ معصوم بچی جس پر ظلم کی انتہا ہوئی ہے اس کا والد ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنوں میں جایا کرتا تھا وہ دو لوگ جو پولیس کے ہاتھوں شہید ہوئے ہیں وہ بھی منہاج القرآن میں شامل تھے یعنی کہ پاکستان عوامی تحریک کے شہیدوں کی تعداد 14سے بڑھ کر 16ہو گئی ہے اور ڈاکٹر طاہر القادری کی اس تحریک کا آغاز ہو گیا ہے جو کہ 17جنوری کو شروع ہونی تھی قصور میں ہونے والے احتجاج کا سلسلہ کراچی تک پہنچ چکا ہے لگتا ہے ایک دو روز میں نظام ظلم کے خلاف یہ احتجاج پورے ملک پر محیط ہو جائے گا امکان ہے اس احتجاج کی قیادت ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ عمران خان بھی کریں گے اور جیسے انہوں نے بڑے میاں صاحب کو ’’اسلام آباد نکالا‘‘ دیا اسی طرح شہباز شریف کو ’’پنجاب نکالا‘‘ دیں گے۔ن لیگ کے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ تمام احتجاج مارچ میں ہونے والے سینیٹ کے انتخابات کو روکنے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔ بلوچستان کی صورتحال بھی اسی سے وابستہ ہے پوری کوشش کی جا رہی ہے کہ بلوچستان اسمبلی ٹوٹ جائے اور سینیٹ کے انتخابات ملتوی ہو جائیں اس میں آصف علی زرداری بہت اہم کردار ادا کر رہے ہیں ۔

ایسی صورتحال میں کوئی یقینی بات کرنا مجھے اچھا نہیں لگتا اگرچہ کچھ براہمن زادے چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ بس حکومت گئی، دو سال کیلئے ٹیکنوکریٹس آ رہے ہیں انتہائی سخت احتساب کا طبل بج چکا ہے ۔کرپشن کی ذلت ختم ہونے والی ہے سچائی اور ایمانداری کا سورج طلوع ہونے والا ہے مگر میں کیا کروں میں تو ہر مارشل لاء سے پہلے ہی جملے سنتے آ رہا ہوں۔(بشکریہ جنگ)

Imran Junior BLOG

Facebook Comments

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں