74

پپو کی کہانی

پپو کہانی
ہمارے دوست پپو سے تو آپ سب لوگ واقف ہی ہیں۔۔۔ ان کو زیادہ تر لوگ مخبریوں کے حوالے سے جانتے ہیں۔۔ یا کچھ کو یہ پتہ ہوگا کہ وہ کورنگی میں پان کا کھوکھا (کیبن ) چلاتے ہیں۔۔۔ لیکن اس کے علاوہ ان کی کئی اور خصوصیات بھی ہیں۔۔ ان کی حس مزاح کمال کی ہے۔۔۔ آپ ان سے بات کرتے ہوئے مسکرائے بنا نہیں رہ سکتے۔۔۔ پپو کے کچھ دلچسپ واقعات آپ سے شیئر کررہا ہوں امید ہے پپو صاحب مائنڈ نہیں کرینگے۔۔۔
پپو روزانہ صبح دس بجے گھر کا سودا لینے لانڈھی چھ کی مارکیٹ جاتے ہیں۔۔۔ پان کا کھوکھا کورنگی چھ پر ہے۔۔۔ کورنگی اور لانڈھی چھ کے درمیان بس ایک اسٹاپ کا فرق ہے۔۔۔جیسے ہی بسم اللہ چورنگی کراس کی لانڈھی چھ آجاتا ہے۔۔۔ ایک روز ہمیں بھی ساتھ لے گئے۔۔۔ گوشت والے کی دکان پر پہنچے۔۔ کہا بھائی جی۔۔ ایک کلو بوٹی بنادو ہڈی والی۔۔۔۔ قصائی نے کہا۔۔۔ کل تو آپ بون لیس لے کر گئے تھے آج ہڈی والا خیر تو ہے؟۔۔۔ پپو نے برجستہ کہا۔۔ کل اپنے کتے کیلئے لے گیا تھا آج ہم اپنے لئے لے جارہے ہیں۔۔۔۔
پپو سے گزشتہ ہفتے کراچی میں کئی ملاقاتیں رہیں۔۔۔ مخبریوں کے علاوہ انہوں نے کئی دلچسپ باتین بھی کیں۔۔۔ چیدہ چیدہ جو یاد رہ گئیں وہ بھی سن لیں۔۔
پپو فرماتے ہیں۔۔ ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کا صدر بن گیا یہ کوئی بڑی بات نہیں۔۔۔ ٹرمپ کی بیگم میلانیا ٹرمپ زیادہ خوش قسمت ہے جو ٹرمپ کی تیسری بیوی ہونے کے باوجود خاتون اول کہلائے گی۔۔۔۔ کچھ دیر کو سانس لینے رکے اور گفتگو کا سلسلہ وہیں سے جوڑتے ہوئے کہنے لگے۔۔۔ دیکھو یار لوگ فضول میں کہتے ہیں کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔۔۔ ٹرمپ کی کامیابی کے پیچھے کئی عورتوں کا ہاتھ ہے۔۔ یعنی جو کئی عورتوں سے چکر چلائے گا ٹرمپ کی طرح کامیاب ہوجائے گا۔۔۔ جو کسی عورت سے چکر نہیں چلائے گا وہ مودی کی طرح کامیابی سمیٹے گا۔۔ مجھے تو ان لوگوں کی فکر ہے عمران بھائی جن کی زندگی میں صرف ایک ہی عورت رہتی ہے۔۔۔ پھر وہ مر کر ہی گھر سے نکلتی ہے۔۔۔عمران بھائی خود سوچو۔۔۔ ایک بیوی والے کیا خاک ترقی کرینگے؟؟
ایک روز گفتگو کے دوران پپو کے کسی گاہگ نے ایک گولڈ لیف کا پیکٹ مانگا۔ اور ہزار کا نوٹ دیا۔۔۔ پپو نے پہلے تو ایسا منہ بنایا جیسا عمران خان نوازشریف کے نام پر بناتا ہے۔۔۔ پھر جیسے تیسے کرکے بقایاجات دیئے۔۔۔گاہگ کے جانے کے بعد ہم نے کہا۔۔۔ یار پپو ہزار کا نوٹ تو تمہارے لئے پریشانی کا باعث بنتا ہے۔۔۔ بس یہ کہنا تھا انہوں نے انڈیا کی مثال دے دی کہنے لگے۔۔۔ یاد انڈیا میں ٹھیک ہوا۔۔۔وہاں ہزار اور پانچ سو کے نوٹ ختم کردیئے گئے۔۔۔یہ سن کر ہم نے پپو کے باخبر ہونے پر تحسین بھری نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔ پپو پھر بولنے لگے۔۔ لیکن وہاں مسائل بھی کھڑے ہوگئے ہیں۔۔ سنا ہے کہ ممبئی ڈانس بارز کی لڑکیاں اب اپنے گاہگوں پر نوٹ نچھاور کررہی ہیں۔۔۔۔ پپو کی بات سن کر ہمیں ہنسی آگئی۔۔۔ پپو بھی مکروہ انداز میں مسکرائے پھر سلسلہ تکلم جوڑا۔۔ کہنے لگے۔۔۔ پتہ ہے مودی نے بڑے نوٹ بند کرنے کا فیصلہ کیوں کیا۔۔۔ہم نے دائیں سے بائیں گردن گھما کر اپنی لاعلمی کا اظہار کیا تو پپو فرمانے لگے۔۔۔ گاندھی جی ایک دن مودی کے خواب میں آئے اور بولے بیٹا بہت دن سے میں نے اپنی ” ڈی پی” تبدیل نہیں کی۔۔۔ پپو کی بات ہمارے سر پر سے گزر گئی ہم انہیں حیران کن نظروں سے دیکھنے لگے تو پپو نے مزید کہا۔۔۔ یار عمران بھائی ۔۔ مودی کا تو پتہ ہے ناں چائے والا ہے۔۔۔ اسے پانچ دس کے نوٹ سے بڑا نوٹ اچھا ہی نہیں لگتا ۔۔ اسی لئے تو اس نے بڑے نوٹ بند کردیئے۔۔۔
پپو کی باتوں سے ہمارا دماغ بند ہونے لگا تو ہم نے اجازت لے کر کھسک جانے میں ہی عافیت جانی۔۔۔۔ باقی پپو کہانی پھرکبھی۔۔۔( علی عمران جونیئر)۔۔

Facebook Comments

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں