gharida farooqi Phone Call Leak exposed 112

جی فار گندی سازش، پس پردہ کون؟؟

جی فار گندی سازش، پس پردہ کون؟؟

gharida farooqi Phone Call Leak exposedمعروف پاکستانی اینکر پرسن غریدہ فاروقی نے کمسن گھریلو ملازمہ کو حبس بے جا میں رکھ کر تشدد کا نشانہ بنا دیا ۔والدین نے عدالت میں درخواست دی تو کئی ماہ سے حبس بے جا میں رکھی گئی گھریلو ملازمہ کو بازیاب کرا لیا گیا ۔ اے آر وائے نیوز کے مطابق لاہور کی مقامی عدالت میں محمد منیر نامی شہری نے درخواست دائر کی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ اس کی 15سالہ بیٹی سونیا اینکر پرسن غریدہ فاروقی کے گھر میں کام کرتی ہے ،گزشتہ کئی ماہ سے اسے بیٹی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی جبکہ تین ماہ سے تنخواہ بھی نہیں دی جا رہی ،خدشہ ہے کہ بیٹی کی جان کو خطر ہ ہے ،عدالت بیٹی کو بازیاب کرائے ۔اس درخواست پر عدالت نے سماعت کر کے بچی کو بازیاب کرایا اور اسے والدین کے حوالے کردیا ۔اے آر وائے نیوز غریدہ فاروقی اور ملازمہ سپلائر کرنے والی خاتون کی مبینہ کال ریکارڈنگ بھی منظر عام پر لے آیا ،جسے مبینہ طور پر ملازمہ کی ماں قرار دیا گیا۔۔اس میں غریدہ فاروقی نے کہا کہ تمہیں آخری بار کہہ رہی ہوں یہاں سے چلی جاؤ،بچی کی والدہ نے کہا کہ آپ نے میری بچی پر تشدد کیا تھا ،مجھے اس سے ملنے دیں ۔اس پر اینکر پرسن نے کہا کہ اس بات کا ثبوت ہے کہ میں نے سونیا کو مارا تھا ،کسی ہسپتال میں جا کر ثبوت لے کر آﺅ ۔انہوں نے دھمکی آمیز لہجے میں بچی کی والدہ کو کہا کہ تم جھوٹ بول رہی ہوں،میں تمہیں بتاؤں گی کہ جھوٹ بولنے پر کیا سزا ملتی ہے ،میرے 40ہزا ر اس لڑکی پر لگے ہوئے ہیں ،مجھے پیسے واپس کردو اور اسے لے جاؤ۔ دوسری جانب اینکر پرسن غریدہ فاروقی نے اپنے خلاف کئے جانے والے پروپیگنڈے کو ایک سازش قرار دیا ہے اور اپنی آڈیو ٹیپ کا بھی انکار کردیا ہے۔۔اپنے مختلف ٹوئیٹس میں غریدہ کا کہنا ہے وہ بہت جلد پراپیگنڈا کرنے والوں کو بے نقاب کریں گی۔۔سوشل میڈیا پرغریدہ فاروقی زیربحث ہیں، اکثریت انہیں کوس رہی ہے، قانون دانوں کا کہنا ہے کہ چائلڈ لیبر ایکٹ کے تحت کسی بچے یا بچی سے کام کرانے کی سزا بیس ہزار روپے جرمانہ،چھ ماہ قید یا دونوں سزائیں بیک وقت ہوتی ہیں۔۔اس بریکنگ میں کئی جھول نظر آرہے ہیں۔۔ اے آر وائی نے بچی کی ماں سے بات چیت کا دعویٰ کرتے ہوئے آڈیو سنوائی۔۔ حالانکہ وہ خاتون بار بار کہہ رہی ہے کہ اس کے والدین ملنے آئے ہیں، یعنی وہ “میڈ” سپلائر تھی،گھروں میں کام کرنے والی ماسیوں کی کیا عادتیں ہوتی ہیں وہ کس طرح سے پیسے بٹورتی ہیں اور کس کس انداز سے بلیک میل کرتی ہیں یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، ماسی مہیا کرنے والے ایجنٹس ان سے بھی دو ہاتھ آگے ہوتے ہیں۔۔سوچنے کی بات ہے میڈسپلائر کیا ایسی ہوتی ہیں کہ وہ موبائل پر کال کرے پھر اسے ریکارڈ بھی کرے۔۔یعنی غریدہ کو ماسی سپلائی کرنے والی خاتون نے جتنی کالیں کی وہ سب پلانٹڈ تھیں۔۔اس بات سے بھی کسی کو اختلاف نہیں ہوگا کہ ماسی سپلائی کرنے والے اپنے کلائنٹ سے ایڈوانس کی مد میں بھاری رقم پکڑتے ہیں۔۔تحقیقی جرنلزم میں دونوں فریقوں کا موقف لیا جاتا ہے،عطائی تجزیہ کاروں کو یہ سوچنا چاہیئے کہ ہرکہانی کے دو پہلو ہوتے ہیں۔۔عدالت کے پاس تو کوئی بھی درخواست لے کر جائے کہ میرا بچہ یا بچی فلاں نے اپنے گھر میں قید رکھا ہے تو عدالت فوری یہی حکم دیتی ہے کہ فوری بازیاب کرایا جائے۔۔کہانی میں یہ جھول بھی ہے کہ ملازمہ کے والد منیر نے پولیس کو بتایا کہ ملازمہ ایک سال سے غریدہ کے گھر کام کررہی ہے جب کہ آڈیو کالز میں سپلائر خاتون مسلسل چھ ماہ سے کام کرنے کا اعتراف کررہی ہے۔۔ہاں نازیبا الفاظ کااستعمال غلط ہے غریدہ کو ایسا نہیں کرنا چاہیئے لیکن اگر کوئی آپ کو فون پر دھمکی دے کہ آپ کو دیکھ لے گا تو آپ کا غصہ ایک فطری عمل ہوگا۔۔ پپو نے انکشاف کیا ہے کہ غریدہ فاروقی نے اپنے قریبی لوگوں کو بتایا ہے کہ اے آر وائی نے اسے اپنے چینل پر کام کرنے کی آفر کی تھی لیکن انہوں نے معذرت کرلی،جس کے باوجود بار بار رابطہ کیا گیا لیکن غریدہ نے نولفٹ کا بورڈ لگادیا جس کے بعد یہ سارا سین سامنے آیا۔۔پپو کا مزید کہنا ہےکہ کچھ عرصہ پہلے اے آروائی کے ایک اینکر اقرار الحسن سندھ اسمبلی میں اسلحہ لے جانے کے الزام میں پکڑے گئے تھے اس پر غریدہ نے ایکسپریس پر پروگرام کیا تھاجس کے لئے اقرار نے انہیں کال بھی کی تھی کہ میرا موقف بھی لیا جائے جس پر غریدہ نے سختی سے منع کردیا کہ ان کی مرضی وہ کسی کا موقف لے یا نہیں، یہ وجہ بھی عناد کا باعث کہہ سکتے ہیں۔۔ پپو کا کہنا ہے کہ غریدہ کو اس اسکینڈل میں باقاعدہ پھنسانے کی سازش کی گئی ہے،جو وقت آنے پر سامنے آجائے گی۔۔

Facebook Comments

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں