Empra Election No Tension By Ali Imran Junior 85

ایمپرا کے الیکشن۔۔۔ نو ٹینشن۔۔۔

تحریر: علی عمران جونیئر

دوستو، ایمپرا کے الیکشن 14 جنوری کو ہیں۔۔ یہ الیکٹرانک میڈیا کے پرڈیوسرز کی تنظیم ہے جو فی الحال صرف لاہور لیول پہ ہے۔۔ اس بار چونکہ مجھے بھی اس کی رکنیت مل گئی ہے اس لئے مجھے بھی ووٹ کا حق ملا ہے۔۔۔

ایمپرا میں واضح طور پر دو دھڑے ہیں، ایک جرنلسٹ گروپ دوسرا پروگریسیو۔۔ میری ممبرشپ پروگریسیو گروپ نے کرائی، اسی گروپ نے پلاٹ بھی دیا ہے، اس لئے اصولی طور پر ساری ہمدردیاں تو پروگریسیو کے ساتھ ہونی چاہیئے، جرنلسٹ گروپ کے لوگ الیکشن کے وقت جاگے ہیں، آپ لوگوں نے دیکھا بھی ہوگا پورے سال یہ لوگ پتہ نہیں کہاں رہے۔۔۔ اگر کچھ کیا تو ایمپرا سٹی کی مخالفت ہی کی۔۔۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس بار الیکشن کمپین ذاتیات پر ہورہی ہے۔۔  ایسا عمل بالکل ٹھیک نہیں۔۔ مخالفت کریں، کام پر کریں۔۔ کسی ذات پر نہ کریں۔۔ پراپرٹی ڈیلر وغیرہ ٹائپ کی لفاظی سے الیکشن کمپین سے آپ جیت تو جائیں گے (جو لگتا نہیں) لیکن لوگوں کے دلوں کو نہیں جیت سکیں گے۔۔۔

گروپنگ اگر منفی سوچ کے ساتھ ہو تو نقصان دہ ہوتی ہے، لیکن اگر یہی گروپنگ  مقابلے کی فضا بنادے تو اس سے بہتر کچھ نہیں۔۔دونوں گروپ میں میرے بہت محترم اور قابل عزت لوگ موجود ہیں لیکن الیکشن میں مجھ سا عام ورکر یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہوگا کہ جناب آپ کے پاس عام ورکر کیلئے کیا منشور ہے؟۔۔ کون سے ایسے پراجیکٹس ہیں جس سے ایمپرا کا عام رکن فائدہ اٹھاسکتا ہے۔۔ ایمپرا بنانے کا مقصد بھی یہی تھا کہ اس سے عام ورکر کو فائدہ پہنچے لیکن اگر صرف الیکشن کے دنوں میں سیاست کی جائے اور پورے سال خواب خرگوش کے مزے لئے جائیں تو پھر ہاتھ جوڑ کے ایسے لوگوں سے معذرت کرلی جائے۔۔۔

پرڈیوسراب چینلز میں کوئی ہائی فائی پوسٹ نہیں، (یہ میرا ذاتی خیال اور مشاہدہ ہے آپ کااتفاق کرنا ضروری نہیں)، آپ اپنے اطراف میں دیکھ لیں کتنے لوگ پرڈیوسرز کی پوسٹ کیلئے مطلوبہ اہلیت پہ پورا اترتے ہیں، بھائی لوگوں چینلز کی بہاریں ہیں ، ابھی مزید چینلز آرہے ہیں اب پرڈیوسرز تھوک کے بھاؤ لگادیئے جاتے ہیں، جس کی پرچی تگڑی ہوگی وہ براہ راست پرڈیوسر بن جاتا ہے۔۔بالکل اسی طرح جیسے اندرون شہروں اور چھوٹے چھوٹے قصبوں،علاقوں میں سائیکل پہ اخبار بیچنے والا، پرچوں کی دکان والا، پرائمری ٹیچر، سرکاری اسپتالوں کا کمپاؤنڈر،سبزی اور فروٹ بیچنے والا کچھ رقم دے کر کسی بھی اخبار یا چینل کا نمائندہ بن جاتا ہے، پھر اس کے ہاتھ میں قلم،مائیک ہوتا ہے اور پورا علاقہ اس کے “تھلے” آجاتا ہے اور وہ گن گن کے بدلے چکاتا ہے۔۔برائے کرم ایک تجویز یہ بھی ہے کہ تھوک کے حساب سے ممبرشپ بنانے کے بجائے کوالٹی پہ توجہ دیں۔۔اس بار بھی نئی ممبرشپ پر کچھ دوستوں کے اعتراضات سامنے آئے ہیں، ان کی شکایات دور کرنےکی کوشش کریں۔۔

الیکشن کی اگر بات کریں تو ہر ایمپرا ممبر کی اپنی مرضی ہے کہ وہ اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دے، کمپین کرنا امیدوار کا فرض ہے لیکن کمپین کی آڑ میں مخالف کی ذاتیات پہ نہ اترا جائے۔۔قاسم سندھو ایک بہترین دوست ہے، ایمپرا میں بہت سرگرم بھی ہے سب سے بڑھ کے پروگریسیو کے معاملے میں کافی اگریسیو بھی ہے، مجھے یوں بھی اچھا لگتا ہے کہ جب بھی ملا دل اوربانہیں کھول کے ملا۔۔اس کا مقابلہ سمیع حسین سے ہے ، سمیع بھائی ہمارے سینئر ہیں، ہمارا کافی پھٹا پرانا ساتھ ہے، اس لئے میرا ووٹ تو سمیع بھائی کےلئے ہے۔۔ سینئر نائب صدر کے لئے راشد رشاول  کا میں کھمبا ووٹ ہوں، راشد بھائی ہمارے ” مرشد ” ہیں اور مرشد کو کبھی ناں ہونہیں سکتی۔۔ نائب صدر کے لئے میاں عاصم اور خالدتبسم میں مقابلہ ہے، میاں عاصم بھی اچھا دوست ہے،لیکن خالد میری نظر میں عاصم سے زیادہ ایکٹیو ثابت ہوگا۔۔ صدر کے لئے راؤ شاہد سے بڑھ کو کوئی چوائس نہیں۔۔ راؤ صاحب نے جس طرح پچھلے سال کارکردگی دکھائی اگر اسی طرح رواں سال بھی سرگرم رہے تو ایمپرا اراکین کے لئے بہت کچھ نیا کرجائیں گے اور انہیں فائدہ ہی پہنچائیں گے۔۔فی الحال تو یہی لوگ میرے علم میں ہیں۔۔ باقیوں پر پھر بات ہوگی۔۔۔آخر میں صرف اتنا ہی کہنا ہے۔۔ ایمپرا کا الیکشن ہے اس لئے نو ٹینشن۔۔ کیوں کہ یہ پڑھے لکھوں کا الیکشن ہے،یہاں لاہور پریس کلب والا سین کوئی نہیں دہرائے گا۔۔(علی عمران جونیئر)

Imran Junior BLOG

Facebook Comments

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں