Elaqai Sahafiyon k Liye Taleem ki Qed kiyun Nahi By Shamoon Arshmaan 62

علاقائی صحافیوں کیلئے تعلیم کی قید کیوں نہیں؟؟

بلاگ: شمعون عرشمان

پاکستان میں صحافت کا شعبہ شاید اب سب سے زیادہ آسان ہوگیا ہے، جس کی مرضی وہ اس شعبے میں گھسا چلا آتا ہے اور پھر کسی چیک اینڈ بیلنس کے بغیر جس قسم کی صحافت ہوتی ہے اس سے دراصل صحافت ہی بدنام ہوتی ہے۔۔ صحافت جو پہلے ایک مشن تھا اب بزنس میں تبدیل ہوچکی ہے، سوائے ایک دو بڑے گروپس کے کسی بھی چینل یا اخبار کے مالک کا صحافتی بیک گراؤنڈ نہیں، اس کے بعد آپ سوچ سکتے ہیں کہ صحافت کا کیا حال ہونا ہے۔۔؟

بدقسمتی سے علاقائی صحافت کا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔ جہاں پر پرائمری پاس، مڈل پاس صحافی بنے ہوئے ہیں حتیٰ کہ ان پڑھ لوگ تو کل تک اخبارات بیچتے تھے آج صحافی بنے ہوئے ہیں۔ اخبارات مالکان نے علاقائی صحافیوں کے لیے کوئی تعلیمی قید نہ رکھ کر زیادتی کی ہے جسکی وجہ سے علاقائی صحافت کاحشر نشر ہو گیا ہے۔چپڑاسی کے لیے تو تعلیمی قابلیت کی حد مقر ر ہے لیکن صحافی بننے کے لیے کسی اہلیت کا ہونا ضروری نہیں۔ کوئی بھی کچھ پیسوں کے عوض اخبار کا کارڈ لیکر دیار صحافت کا دروازہ کھٹکا سکتا ہے۔ یہ سب کچھ چھوٹے اخبارات تک محدود نہیں بلکہ بڑے ادارے بھی اس میں شامل ہیں۔

کچھ چینلز نے تو پیسے لے کر نمائندہ بنانے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔۔ رپورٹر سے لے کر تحصیل رپورٹر، ضلعی رپورٹر، بیوروچیف سب کے الگ الگ ریٹ مقرر ہیں، تعلیم کیا ہے، پہلے کبھی صحافت کا کوئی تجربہ ہے، کوئی کرمنل بیک گراؤنڈ تو نہیں، کہیں جرائم کے اڈے یا فحاشی کے اڈے تو نہیں چلارہا؟ بلیک میلر تو نہیں۔۔ نہیں صاحب، کچھ نہیں پوچھنا،چینل یا اخبار کی انتظامیہ جو پیسے بتائے ادا کرو اور پھر اپنے علاقے میں لوٹ مار مچادو۔۔ سوچنے والی بات ہے جس طرح پولیس میں لوگ پیسے دے کر بھرتی ہوتے ہیں پھر رشوت لینا شروع کردیتے ہیں تو کیا جو پیسے دے کر نمائندہ بنے گا کیا وہ علاقےمیں بلیک میلنگ اور لوٹ مار کا بازار گرم نہیں کرے گا؟؟

میری تمام اخبارات اور ٹی وی چینلز مالکان سے اپیل ہے کہ علاقائی صحافت کے حوالے سے صحافیوں کے لیے کچھ تو تعلیمی قابلیت کا معیار رکھیں تاکہ قلم فروشوں کے گروہوں سے صحافت کو پاک کیا جا سکے۔ علاقائی صحافت کے لیے اگر تعلیم کا معیار میڑک ہی رکھ دیا جائے تو اتنا یقین ہے کہ ستر فیصد نام نہاد ان پڑھ صحافیوں سے اٹک کے عوام کو نجات مل جائے گی جو اپنی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر پریس کی پلیٹیں لگا کر  مشکوک سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ۔۔(شمعون عرشمان)

Imran Junior BLOG

Facebook Comments

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں