bol islamabad ki anokhi kahani pappu ki zabani by ali imran junior 473

بول اسلام آباد کی انوکھی کہانی، پپو کی زبانی

بلاگ: علی عمران جونیئر

دوستو، پپو کافی دنوں سے آؤٹ آف فارم تھا، امریکا سے مخبریاں دیں تو لگا وہ امریکا چلا گیا، فون بھی بند مل رہا تھا، خیر اب پپو سے رابطے بحال ہوگئے وہ پاکستان میں ہی ہے۔۔پپو اکثر مجھے تپاتا ہے، کہتا ہے بول کے معاملے میں آپ سے زیادہ مجھے علم ہے، کبھی کبھی لگتا ہے وہ غلط ہے لیکن جب وہ اندر کی کہانیاں نکال کے لاتا ہے تو پھر یہی لگتا ہے کہ پپو پاس ہوگیا۔۔اس بار پپو لایا ہے بول اسلام آباد بیورو کی ایک دلچسپ اور انوکھی کہانی۔۔ تو چلئے پپو کی زبانی سن لیجئے۔۔۔

یہ بات ہے 26 دسمبر کی یعنی اس بات کو ابھی تک پورا ہفتہ بھی نہیں گزرا۔۔ بول اسلام آباد میں ایک سینئر اسائنمنٹ ایڈیٹر کی جواننگ تھی، وہ اپنا ادارہ چھوڑ کے آیا، یعنی استعفا دے کر آیا، اور جوائننگ کے صرف دس منٹ بعد ہی بول چھوڑ کے واپس چلاگیا اور بول کے ساتھ کام کرنے سے معذرت کرلی۔۔ یہ سب ہوا کیا۔۔پپو نے مزید بتایا کہ ۔۔سینیئر اسائنمنٹ ایڈیٹر نے جب اپنے پرانے ادارے ڈان کو چھوڑا اور بول جوائن کرنے کے لئے چھبیس دسمبر کو بول اسلام آباد آفس میں داخل ہوا تو اس سے جوائننگ لیٹر پہ سائن کرائے گاپھر اسے کہاگیا کہ بول کےڈائریکٹر نارتھ کو رپورٹ کریں، وہ خوشی خوشی ڈائریکٹر نارتھ سے ملنے چلا گیا۔۔جہاں اسے کچھ ہی منٹوں میں احساس ہوگیا کہ وہ تو “پھنس” گیا ہے، کسی جیل خانے میں اگیا ہے۔۔

پپو کے مطابق سینئر اسائنمنٹ ایڈیٹر کو “نادرشاہی” حکم دیاگیا کہ 8 گھنٹے کی ڈیوٹی کا یہاں کوئی تصور نہیں،یہاں روزانہ بارہ سے 14 گھنٹے کام کرنا ہوگا، آفس آنے اور جانے پر ڈائریکٹر نارتھ کر اطلاع دینی ہوگی۔۔اگر یہ سب نہیں کیا تو پھر اس کی نوکری “پروبیشنری ” پیریڈ میں ہی ختم ہوسکتی ہے۔۔ڈائریکٹر نارتھ نے یہ دعوی بھی کیا کہ بول انتظامیہ نے اسے سیاہ و سفید کا مالک بنایاہوا ہے۔۔موصوف پتہ نہیں کس زعم میں تھے ، نوجوان کو یہ تک کہہ دیا کہ اگر یہ باتیں منظور ہے تو ٹھیک ورنہ باہر کو وہ راستہ جاتا ہے۔۔۔پپو کا کہنا ہے کہ دس منٹ کی اس بریفنگ کے بعد نوجوان نے فیصلہ کیا کہ بول میں نوکری سے بہتر ہے کسی کی غلامی کرلی جائے ،نادرشاہی احکامات کے دوران ہی نوجوان نے فیصلہ کرلیا کہ یہاں نوکری نہیں کرنی۔۔وہ ڈائریکٹر نارتھ کے حکم کے مطابق باہر کے راستے پہ ہولیا۔۔پپو کے مطابق ایچ آر نے اسے فون کیا اور وجوہات جاننے کی کوشش کی کہ وہ کیوں چلاگیا۔۔پھر اس سے تحریری طور پر لکھوایا گیا کہ اس کے چھوڑ کے جانے کی کیا وجہ ہے، اور نوجوان نے وہ سب کچھ لکھ دیا جو میں(پپو) بتارہا ہوں۔۔۔

پپو نے اس حوالے سے کچھ سوالا ت بھی کئے ہیں۔۔ پپو کا کہنا ہے سب سے اہم سوال تو یہ ہے کہ ایک ایسا شخص جسے جیو اور جنگ سے نکالا گیا، کیپٹل سے فارغ کیاگیا، ابتک نیوز سے اس کی بدزبانی پر باہر کا راستہ دکھایاگیا ، اسے شعیب شیخ نے کن “صلاحیتوں” کی بناپر رکھ لیا۔۔؟؟ ایک ایسے بندے کو کیوں اتنا اہم عہدہ دیاگیا جس کے کریڈٹ پر ایک بھی اسٹوری نہیں۔۔ایک ایسا بندہ جس کی نیشنل پریس کلب اسلام آباد نے رکنیت منسوخ کردی ،جو اپنی ممبرشپ بحال نہ کراسکے یہاں تک کہ پریس کلب جاکے چائے تک پی سکے،اسے اسلام آباد بیورو کا “نگراں” کس خوشی میں بنایاگیا؟؟۔۔پپو کا مزید کہنا ہے کہ شعیب شیخ صاحب خفیہ سروے کرالیں، اسلام آباد بیورو میں ایک بھی بندہ اس افسر اعلیٰ سے خوش نہیں،یہ سب کے ساتھ توہین آمیز رویہ اختیار کرتا ہے،(حالانکہ عزت نفس کی ویلیو مجھے بول ہیڈآفس میں جاکر پتہ لگی جہاں انسان کو انسان سمجھا جاتا تھا، یہ دوہزار پندرہ کی بات ہے جب میں نے بول جوائن کیا تھا۔۔عمران جونیئر)۔۔موصوف کے بدترین رویہ کی وجہ سے اسلام آباد میں کوئی بھی پروفیشنل یا بڑا نام بول جوائن کرنے کو تیار نہیں ۔۔پپو کا کہنا ہے کہ صورتحال یہ ہے کہ پورے اسلام آباد بیورو میں ایک ہی اسائنمنٹ ایڈیٹر ہے جس سے روزانہ کی بنیاد پر بارہ سے چودہ گھنٹے کام لیا جارہا ہے۔۔پپو نے شعیب شیخ صاحب سے بھی سوال کیا ہے کہ جب وہ اپنے ادارے میں عالمی سطح کی سہولتیں دینے کا کہتے ہیں تو پھر کارکنوں پہ یہ ظلم کیوں؟ کیا عالمی سطح پر ورکرز سے بارہ سے چودہ گھنٹے کام لیا جاتا ہے؟؟ پپو نے اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ ایک ایسا ادارہ (بول) جو بہترین صحافتی ٹیم رکھنے کا دعویدار ہے لیکن اسلام آباد بیورو میں ایسے انسان کو رکھا ہوا ہے جس سے اس کا پورا اسٹاف بری طرح بیزار ہے۔۔جو ورکرز سے،اسٹاف سے گالم گلوچ کرتا ہے اور انہیں بات بات پہ برطرفی کی دھمکیاں دیتا ہے۔۔امید ہے شعیب شیخ صاحب اس کا نوٹس لیں گے۔۔(علی عمران جونیئر)۔۔

Facebook Comments

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں