103

عطاالحق قاسمی کے خلاف کچھ باتیں

تحریر: منصور آفاق

عطا الحق قاسمی سے میرے تعلق کو تقریباً چالیس سال ہونے والے ہیں وہ ہمیشہ نوا زشریف کی حمایت میں قلم بستہ رہے اور میں نواز شریف کی مخالفت پر کمر بستہ رہا -اس موضوع پر ان کے ساتھ لمبی لمبی نشستیں ہوئیں نہ میں انہیں قائل کر سکا نہ وہ مجھے -لیکن تعلق کبھی خراب نہیں ہوا تھا -پہلی بارمجھے ان سے تکلیف پی ٹی وی کے چیئرمین ہونے کے دوران ہوئی ۔دراصل انہی کے کہنے پر میں نے پی ٹی وی کیلئے ڈرامہ سریل ’’نمک ‘‘ لکھنا شروع کیا تھا-ڈرامہ کے ڈائریکٹر اور پی ٹی وی لاہور سنٹر کے پروگرام منیجر افتخار ورک نےجب آٹھ ایپی سوڈز ریکارڈ کرلئے تو پی ٹی وی نے ڈرامہ آن ایئربھیج دیا ۔ڈرامہ لوگوں نے بہت پسند کیا ۔اشتہارات بھی باقی ڈراموں سے کئی گنا زیادہ ملے ۔ اخبارات نے بھی کہا کہ ڈرامہ سریل ’’نمک ‘‘ پی ٹی وی کے ڈرامہ کا احیا ہے ‘‘مگر اُس کا فنڈروک دیا گیا۔میں نے قاسمی صاحب کو کہا کہ فنڈ بھجوائیں تاکہ اداکاروں کو پیمنٹس دی جا سکیں اور باقی دس اقساط کی ریکارڈنگ کی جاسکے مگر چیئرمین پی ٹی وی نےکچھ نہ کیا-میرے بار بار کہنے کا جب کوئی نتیجہ نہ نکلا تو میں نے انہیں یہ پیغام بھجوایا کہ آپ میرے ساتھ نہیں پی ٹی وی کے ساتھ زیادتی کررہے ہیں میں مجبور ہوں کہ یہ ساری باتیں میڈیا کے سامنے رکھوں کہ پی ٹی وی کی تاریخ کا سب سے بڑا ظلم ہونے والا ہے ۔ پی ٹی وی کے ساتھ وہ ظلم جس کی پہلے کہیں کوئی مثال موجود نہیں ۔جواباً قاصد ’’خاموشی ‘‘لے کر آیامگر اگلے ہی دن اُن کے مستعفی ہونے کی نویدسنی تومیرے دل میں ٹھنڈ پڑ گئی ۔ساتھ ہی خبر ملی کہ پی ٹی وی کے ایم ڈی کا چارج وفاقی سیکرٹری انفارمیشن سردار احمدنواز سکھیرا نے سنبھال لیا ہے -دوستوں نے ان کی بہت تعریف کی بہت اچھے اور ایماندار آفیسر ہیں-میں نے ایک اور ایماندار آفیسر شعیب بن عزیز سےکہا کہ سکھیرا صاحب سے بات کریں اور انہیں اس عجیب و غریب معاملے کے متعلق بتائیں-انہوں نے اس سلسلے میں سکھیرا صاحب سے تفصیلی گفتگو کی-انہیں خود دو مرتبہ میں نے ٹیلی فون کیا-انہوں نے فوری طور پر فنڈ جاری کرنے کے آرڈر بھی کیے مگر فنڈ جاری نہیں ہوئے اسکا ساتواں ایپی سوڈ آن ایئر چلا گیا ہےیعنی صرف ایک ایپی سوڈ باقی رہ گیا ہے۔ اب کیا ہوگا ۔ کیا پی ٹی وی اپنی بربادی کی کوئی نئی تاریخ رقم کریگا ۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ’’نمک ‘‘کے سا تھ دو جو اور ڈرامہ سریل پی ٹی وی نے پروڈیوس کئے ہیں اسکے تمام فنڈ دوماہ پہلے ان کے پروڈوسر زکے حوالے کئے جا چکے ہیں ۔یہ تماشا صرف میرے ڈرامہ سریل ’’ نمک ‘‘ کیساتھ کیا جارہا ہے ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کون کر رہا ہے ۔آئیے اُس ’’کون ‘‘ کی تلاش میں عطاالحق قاسمی کے خلاف چلنے والی سوشل میڈیا کی گھٹیا ترین کمپین پر ایک نظر ڈالتے ہیں ۔عطاالحق قاسمی اطلاعات کی وزرات کےرویہ کےخلاف احتجاجاً مستعفی ہوئے ۔میرا خیال تھا کہ استعفیٰ کسی صورت میں قبول نہیں ہوگاکیونکہ ایسے وقت میں نواز شریف اپنے اتنے قریبی کالم نگار دوست کو ضائع نہیں کریں گے مگر وزیر اعظم نے استعفیٰ قبول کر کے یہ پیغام دیا کہ ’’شکریہ ہمیں تمہاری ضرورت نہیں ‘‘۔تو میں حیران ہو گیا ۔ پھر صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا گیا۔ نون لیگ کی سوشل میڈیا کی ٹیم نے ان پر ایسے ایسے بھونڈے الزامات لگانے شروع کر دئیے جوکوئی شریف آدمی اپنےدشمنوں کیخلاف بھی نہیں لگاتا۔یا اللہ خیر ۔پتہ نہیں قاسمی صاحب سے کیا جرم سرزد ہوگیا ہے ۔

کسی زمانے میں نواز شریف نے عطاالحق قاسمی سے کہا تھا کہ ’’ہم آپ کو پنجاب کا گورنر بنا رہے ہیں ‘‘۔ قاسمی صاحب نےدوستوں کیساتھ خوشی کی یہ خبر شیئر کردی ۔ اہل قلم نے نواز شریف کے اس اقدام کو بہت سراہا حتی کہ میں نے بھی یہاں تک لکھ دیا تھا ’’میںنے نون لیگ کے حق میں کبھی کلمہ ء خیر نہیں کہااور اس کا امکان ابھی تک تو دکھائی نہیں رہا ۔ہاں اگر عطاالحق قاسمی جیسی کسی شخصیت کو نون لیگ پنجاب کا گورنر لگا دے تو شاید میں بھی کلمہ ء خیر کہنے پر مجبور ہوجاؤں۔‘‘مگر اللہ نے مجھے اِ س کارِ گناہ سے محفوظ رکھا اور عطاالحق قاسمی گورنر ہائوس میں قید ہونے سے بچ بچا گئے ۔پھر انہیں راضی کرنے کےلئے پی ٹی وی کا چیئرمین لگا دیا گیا ۔ان کا خیال تھا کہ عطا الحق قاسمی بھی اُسی طرح چیئرمین بنے رہیں گے جس طرح بیچارےممنون حسین صدر بنے ہوئے ہیں مگر عطا الحق قاسمی نے اس کے برعکس سوچا کہ شاید نواز شریف پی ٹی وی کے ڈوبتے ہوئے ٹائی ٹینک کو بچانے کےلئے اسے پی ٹی وی کا چیئرمین بنایا ہے ۔سو انہوں نے سچ مچ ا پنی طرف سے کوششیں شروع کردیں ۔وہ چوہے جو برسوں سے پی ٹی وی کو چاٹ رہے تھے ان کےلئے یہ بہت خطرناک بات تھی ۔کئی سالوں کے بعد پہلی بار پی ٹی وی نے اپنی پروڈکشن کا آغاز کردیا تھا ۔وہ باہر سے پروڈوکشن خرید تے ہوئے کروڑوں کی کمیشن حاصل کرتے تھے ۔ان کی تو نیندیں اڑ گئیں۔اب بھی وہ یہی چاہ رہے ہیں کسی طرح ڈرامہ سریل ’’ نمک ‘‘ ادھورا رہ جائے اور کہا جاسکے کہ پی ٹی وی خود اس اہل نہیں رہاکہ کوئی پروڈوکشن کر سکے اسلئے تمام پروڈوکشنزباہر سے خریدی جائے ۔

عطاالحق قاسمی کے ساتھ نون لیگ کو ایسا سلوک نہیں کرنا چاہئے تھا ۔عمر بھر کی وفاداری کا جو صلہ انہیں نون لیگ کی حکومت نے دیا ہے وہ بہت تکلیف دہ ہے ۔حیرت ہے نون لیگ کے دانشوروں پر کہ انہوں نے نون لیگ کے ایک اہم کالم نگارکو اتنی بے دردی سے ضائع کردیا ہے ۔کہتے ہیں کہ اس تمام معاملہ کے پس منظر میں خود مریم نواز ہیں (بوساطت مریم اورنگ زیب )۔سوچتا ہوں کہ اتنے طویل عرصہ کے بعد عطاالحق قاسمی کو اب جب اس بات کا احساس ہوا ہوگا کہ وہ غلط تھے اور میں ٹھیک تھا تو انہیں کتنی تکلیف ہوئی ہوگی ۔اس پر ظلم یہ ہے کہ وہ عمر کے اُس حصے میں ہیں جہاں ایسی غلطیوں کا تدارک ذرا مشکل ہوتا ہے۔ہاں بیٹوں کو خاص طورپر یاسر پیرزادہ کو وہ یہ وصیت ضرور کرسکتے ہیں کہ عمر بھر جو غلطی میں نے کی ہے ۔ تم مت کرنا ۔اِس زمانے میں خلوص نام ہی نادانیوں کا ہے۔۔(بشکریہ جنگ)Imran Junior BLOG

Facebook Comments

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں