Anwer Sen Roy key Naam Ek Shaam By Agha Khalid 72

استادمحترم انورسن رائے کے نام، ایک شام

تحریر: آغا خالد

کراچی میں صحافت کی دنیا کے بڑے نام انور سن رائے کی کامیابیوں میں قومی اخبار ، روزنامہ پبلک ، روزنامہ کائنات اور روزنامہ امروز شامل ہیں انہوں نے جو بھی اخبار نکالا وہ اپنے وقت کا کامیاب ترین اخبار ثابت ہوا اور ان کے جانے کےبعد ان کی کمی اس طرح محسوس ہوئی کہ وہ اخبار اپنی سرکولیشن برقرار نہ رکھ سکا اس طرح عوام کے اعتماد سے محروم ہوگیا ان کے سینکڑوں شاگرد کراچی ، پاکستان اور دنیا بھر میں اعلی عہدوں پر فائز ہیں اور بعض موجودہ دور کی صحافت کا بڑا نام ہیں ۔

انہی انور سن رائے کے ساتھ  کراچی میں موجود ان کے شاگردوں کی جانب سے کراچی پریس کلب میں منگل 2 جنوری 2018  کو ایک شام کا اہتمام کیا گیا جس کا مقصد پرانی یادوں کو تازہ کرنے کے علاوہ انور سن رائے کے فرمودات عالیہ سے ایک بار پھر فیض یاب ہونا تھا جن پر عمل کرکے ا ن کے شاگردوں نے صحافت میں اعلی مناصب حاصل کئے اس تقریب کے میزبان قمر الزماں تھے جو انور سن رائے کے قافلے میں ایک سب ایڈیٹر کی حیثیت سےشامل ہوئے تھے اور ترقی کرتے ہوئے نیوز ایڈیٹر کے منصب پر فائز ہوئے پھر وہ الیکٹرونک میڈیا کی طرف ہجرت کرگئے اور اب وہ مختلف چینلز میں کام کرتے ہوئے ڈان نیوز میں اعلی عہدے پر فائز ہیں جبکہ تقریب میں شرکت کرنے والے انور صاحب کے ایک ہو نہار شاگرد نزیر لغاری بھی تھے جو ایک چینل میں اعلی عہدے پرفائز ہیں مگر وہ اپنی دفتری مصروفیات کی وجہ سے زیادہ دیر نہ بیٹھ سکے ان کے علاوہ تقریب میں فرحان رضا ، امتیاز شاہ ، شاہد مصطفی ، وسیم ، جمیل رائو ، صدیق چوہدری ، مختار بائی جی ، جاوید احمد ، عرفان اور میزبان سمیت دیگر کئی شریک ہوئے جبکہ تقریب کے دولہا انور سن رائے نے اس موقع پر اپنی گزارشات میں عرض کیا کہ صحافت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ آپ جب خبر بنائیں تو اپنے ذہن کو بلکل غیر جانب دار رکھ کر بنائیں اور یہ ہرگز نہ بھولیں کہ آپ کی خبر سے کسی کی ذاتی انا کو ٹھیس نہ پہنچے خاص طورپرخبر کا پہلا جملہ لکھتے ہوئے یہ ذہن میں رکھیں کہ اگر یہی خبرخود ان کے خلاف ہوتی تو ان کا رد عمل کیا ہوتا؟

انہوں نے کہا کہ یہ تو اظہر من الشمس ہے کہ خبر سے کسی کو فائدہ اور کسی کو نقصان ضرور پہنچتا ہے مگر رپورٹر کا کمال یہ ہے کہ جس کے خلاف خبر ہو اس کا ضمیر بھی یہ گواہی دہے رہا ہو کہ جو کچھ لکھا گیا وہ درست ہے اور الفاظ کا انتخاب بھی ایسا ہونا چاہیے کہ خبر کا نشانہ بننے والا بھی ذاتی توہین محسوس نہ کرے۔ انور سن رائے نے کہا کہ کام کی تنخواہ تو ضرور ملتی ہے مگر رپورٹنگ سے جو عزت کمائی جاسکتی ہے وہ وہی حاصل کرسکتا ہے جو رپورٹنگ کے معیار کوبرقرار رکھتا ہے ورنہ زیادہ تر رپورٹرکے حصے میں نیک نامی کے بجائے جو آتا ہے وہ میں کہنا نہیں چاہتا اسی طرح انہوں نے کہا کہ رپورٹر وہی بن سکتا ہے جس میں نیوز سینس ہو اور وہ اپنے پیشے سےمحبت بھی کرتا ہو ورنہ ہزاروں رپورٹرز میں چند ہی ایسے ہوتے ہیں جن کی خبروں کو یاد رکھا جاتا ہے یا ان کی خبریں ڈسکس ہوتی ہیں

انہوں نے کہا کہ خبر اور اخبار کا کمال یہ ہے کہ وہ لوگوں میں ڈسکس ہوں اور اس کی جزیات پر لوگ تبصرے کریں انہوں نے کہا کہ ایک جملہ اکثر بولا جاتا ہے کہ پروفیشنل ازم،جبکہ پروفیشنل بننے کیلئے چند گھنٹے ہی درکا رہوتے ہیں تاہم نیوز سینس پیدائشی ودعیت ہے جس کے نصیب میں آئے ایک کاتب بھی بہترین رپورٹر یا بہترین صحافی بن سکتا ہے اور ہر رپورٹراچھا صحافی نہیں ہوتا یا تو اس میں نیوز سینس کم ہوتی ہے یا وہ اپنے پیشے سے محبت کے بجائے پیسے سے محبت کرتا ہے اس لئے وہ صحافت میں کوئی اچھی یادیں چھوڑکر نہیں جاتا اس موقع پر آغاخالد، امتیاز شاہ ،قمرالزماں ،شاہد مصطفی اور وسیم نے بھی اپنی پرانی یادوں کی راکھ سے کچھ چنگاریاں سلگائی اور ان کی روشنی سے محفل کو منور کرنے کی کوشش کی۔  (آغا خالد)

Anwer Sen Roy With Media Persons
Anwer Sen Roy With Media Persons
(مجھے فخر ہے کہ میں بھی انورسن رائے کے شاگردوںمیں سب سے جونیئر تھا اور جونیئر ہوں۔۔ اپنے استاد محترم کے ساتھ کراچی میں منائی گئی شام میں لاہور ہونے کیوجہ سے شرکت نہ کرسکا، لیکن اس روداد کو آپ تک پہنچاکے اپنا حصہ بھی ڈال رہا ہوں،علی عمران جونیئر)
 Imran Junior BLOG
Facebook Comments

اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں